30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الخدری رضی الله تعالٰی عنہ۔ اقول ثالثا کل ماذکر فی شان النزول فانما یستقیم و یطابق التنزیل اذا کان الموضوع ھو الاتقٰی۔اما اذا عکس فلایتاتی ولایاتی الرمی علی المرمی،اما روایۃ یزید بن شجرۃ فطریق الاستدلال فیہا انکم استحقرتم ھذا العبدلانہ عبداسود فقلتم عاد ذلیلًاوحضرجنازۃ ذلیل لکنہ عندناکریم جلیل اذ کان متقیا والفضل عندنا بالتقویٰ فمن کان تقیا کان کریما عندنا وان کان عبدا اسود اجدع۔وھذا الطریق ھو المفہوم من الاٰیۃ عند کل من لہ ذوق سلیم،اما علی ما زعمتم فیکون حاصل استدلال الله سبحٰنہ و تعالٰی انہ کان کریما وکل کریم متق فلذا اعادہ نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وحضر دفنہ،وھذاالطریق کما تری اذا کان ینبغی الاستدلال الاستدلال بامر مسلم عندھم یستلزم مالم یسلموہ کالتقویٰ علٰی تقریرنا۔ |
خدری رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ اقول ثالثا: جو کچھ آیت کریم کے شان نزول میں مسطور ہوا وہ تو اسی وقت راس آتا ہے اورتنزیل کے مطابق ہوتا ہے جب آیت کریمہ میں اتقی ہی موضوع ہو۔رہی وہ صورت جب اس کا عکس کردیں تو بات نہیں بنتی،ہر تیر نشانے پر نہیں بیٹھتا۔ رہی یزید ابن شجرہ کی روایت تو اس میں استدلال کا طریقہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم نے غلام کو حقیر جانا اس لئے کہ سیاہ فام غلام ہے تو تم نے اعتراض کیا کہ ذلیل کی عیادت کی ذلیل کے جنازہ میں حاضر ہوئے،لیکن وہ غلام ہمارے نزدیك باعزت جلیل القدر ہے اس لئے کہ وہ متقی تھا اورہمارے یہاں بزرگی تقویٰ سے ہے تو جو متقی ہوگا ہماری بارگاہ میں عزت والا ہوگا اگرچہ کالانکٹاغلام ہو۔اورآیت سے ہر ذوق سلیم والے سے یہی طریق استدلال مفہوم ہوتا ہے،اور تمہارے زعم پر الله تبارك وتعالٰی کے استدلال کا حاصل یوں ہوگا کہ وہ بے شك عزت والا تھااورہر عزت والا متقی ہے اسی لئے تو ہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس کی عیادت کی اوراس کے دفن میں شریك ہوئے۔اوریہ طریق استدلال جیسا ہے تمہیں معلوم ہے اس لئے کہ دلیل لانا ایسے امر سے چاہئے تھا جو کفار کو مسلم ہوا اورجو اس کو مستلزم ہو جس کو وہ تسلیم نہیں کرتے جیسے تقویٰ ہماری تقریرپر۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع