30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ووصف کونہ افضل غیر معلوم ولامشاھد والاخبار عن المعلوم بغیر المعلوم ھوالطریق الحسن،اما عکسہ فغیر مفید،فتقدیر الاٰیۃ کانہ وقعت الشبھۃ فی ان الاکرم عندالله من ھو؟ فقیل ھو الاتقٰی، واذا کان کذٰلك کان التقدیراتقٰکم اکرمکم عند الله [1]انتہی۔
قلت ولعلك لایخفی علیك مابین التقدیرین من الفرق وما بین ھذا الوجہ و وجوھنا الباقیۃ من التفاوت العظیم"" ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ[2] و لحمد لله رب العٰلمین۔
ثم اقول عسٰی ان یزعجك الوھم الصؤل فیلجئك ان تقوم تقول الیس التقویٰ من افعال القلوب،قال الله سبحٰنہ و |
اورانسان کا افضل ہونا نہ وصف معلوم ہے اورنہ محسوس۔ اور معلوم کے بارے میں وصف غیر معلوم کے ذریعہ خبردینا، یہی بہتر طریقہ ہے۔رہا اس کا عکس،تووہ مفید نہیں۔تو آیت میں عبارت مقدر ہے،گویا کہ اس بارے میں شبہ ہوا کہ الله کے نزدیك اکرم کون ہے؟تو فرمایا گیا کہ اکرم اتقی ہے، اور جب بات یوں ہے تو آیت کی تقدیر یوں ہوگی اتقٰکم اکرمکم عنداللہ(تم میں سب سے زیادہ پرہیزگارالله کے نزدیك تم سب میں عزت والا ہے) قلت(میں کہتاہوں)اورشاید تم پرپوشیدہ نہ ہو وہ فرق جو دونوں تقدیروں میں ہے اوروہ عظیم تفاوت جو اس وجہ میں اورہماری باقی وجوہ میں ہے یہ الله کے فضل میں ہے جسے چاہتاہے دے دیتاہے۔اورسب تعریفیں الله کے لئے جو رب ہے جہان والوں کا۔ ثم اقول(پھر میں کہتاہوں)قریب ہے کہ تمہیں وہم بے چین کرے پھر تمہیں مجبور کرے کہ تم کھڑے ہوکر یہ کہو کہ کیاتقویٰ افعال القلوب سے نہیں،الله سبحانہٗ وتعالٰی کا ارشاد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع