30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النسفی فی المدارک[1]۔ واقول ثانیًا القراٰن انما نزل لبیان الاحکام التی لا یطلع علیہا الا اطلاع الله سبحٰنہ وتعالٰی کالنجاۃ و الھلاك والکرامۃ والھوان والردوالقبول والغضب و الرضوان لالبیان الامورالحسیۃ وکون الرجل تقیا او فاجرا مما یدرك بالحس ففی جعل الاکرم موضوعًا کقلب الموضوع ولقد کان ھذا الوجہ من اول ماسبق الیہ فکری حین استماع الشبہۃ ثم فی اثناء تحریر الرسالۃ لما راجعت مفاتیح الغیب رأیت الفاضل المدقق تنبہ للشبہۃ ودندن فی الجواب حول ما او مانا الیہ حیث یقول"فان قیل الاٰیۃ دلت علٰی ان کل من کان اکرم کان اتقی"وذٰلك لایقتضی ان کل من کان اتقی کان اکرم،قلنا وصف کون الانسان اتقی معلوم مشاھد |
اوراسی طرح امام نسفی نے مدارك میں فرمایا۔ اقول ثانیًا: قرآن تو ان احکام کے بیان کے لئے نازل ہوا ہے جن کا علم الله سبحٰنہ وتعالٰی کے اطلاع کئے بغیر نہیں ہوسکتا جیسے کہ نجات وہلاکت،عزت وذلت اورمردودومقبول ہونا اور غضب ورضائے الہٰی،یہ محسوسات کے بیان کے لئے نہیں اترا اورآدمی کا پرہیزگاریامددگار ہونا ان باتوں سے ہے جن کاعلم احساس سے ہوتاہے تو اکرم کوموضوع بنانا قلب موضوع ہے اور بیشك یہ وجہ ان باتوں سے ہے جن کی طر ف میری فکر نے شبہ کو سن کر سبقت کی،پھر اس رسالہ کی تصنیف کے دوران جب میں نے تفسیر"مفاتیح الغیب "دیکھی تو میں نے فاضل مدقق کو دیکھا کہ وہ اس شبہ کی طرف متنبہ ہوئے اور جواب میں جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا اس کے گرد مبہم کلام فرمایا اس لئے کہ وہ فرماتے ہیں پھر اگر کہا جائے کہ یہ آیت تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ شخص جو اکرم(بڑا عزت والا)ہوگا،اتقٰی(بڑا پرہیزگار)ہوگا،اوریہ اس بات کا مقتضی نہیں کہ ہر وہ شخص جو اتقی(بڑا پرہیزگار)ہو وہ اکرم (بڑاعزت دار)ہو۔ہم کہیں گے کہ انسان کا اتقی ہونا وصف معلوم ومحسوس ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع