30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الصدیق اتقی وکل اکرم اتقی وھذا لیس من الشکل الاول فی شیئ ولا ثانیًاایضًالعدم الاختلاف فی الکیف وان عکستم الکبرٰی جاء ت جزئیۃ لاتصلح لکبرویۃ الشکل الاول فمفاد الاٰیتین لایضرنا ولا ینفعکم ومن الشبھۃ ھی اللتی بلغنی عن بعض المفضلۃ عرضہاعلٰی بعض المتکلمین منا۔ وانا اقول: وبالله التوفیق ما استخفہ تشکیکا و اضعفہ دخلًارکیکًاغلط ساقط باطل عاطل لا یستحق الجواب ولکن اذا قیل وسئل فلا بدمن ابانۃ الصواب فاعلم ان اللطیف الخفی وفقنی لازھاق ھذا التلبیس الفلسفی باثنی عشر وجھا امھاتھا ثلثۃ وجوہ کل منھا یکفی ویشفی۔
الاول لو کان لہذا القائل علم بمحاورات القراٰن او الحدیث اوبماروی العلماء فی شان النزول او التفسیر المرفوع الی جناب الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اوکلمات العلماء والائمۃ الفحول او رزق حظامن فھم الخطاب ودرك المفادو |
ہر اکرم اتقی ہے،اور یہ کسی طرح شکل اول کے قبیل سے نہیں اورشکل ثانی بھی نہیں اس لئے کہ کیف میں اختلاف نہیں ہے،اوراگر کبرٰی کا عکس کردیا جائے اس صورت میں موجبہ جزئیہ ہوگا جو شکل اول کے کبرٰی بننےکے لائق نہیں،تو دونوں آیتوں کا مفاد ہمیں مضرنہیں اورتمہیں مفید نہیں،اوریہ وہی شُبہ ہے جس کے بارے میں مجھے خبر پہنچی کہ کسی تفضیلی نے ہمارے کسی عالم سے عرض کیا۔ اور میں کہتاہوں اورتوفیق الله ہی سے ہے،یہ کتنی سخیف تشکیك ہے اورکس قدر ضعیف اعتراض رکیك ہے جو غلط ہے ساقط ہے باطل و عاطل ہے جواب کا مستحق نہیں،لیکن یہ جب کہا گیا اورپوچھا گیا تو صواب کو ظاہر کرنا ضروری ہے،اب تم جانو کہ الله لطیف خفی نے اس قید فلسفی کے قلع قمع کے لئے مجھے بارہ وجوہ سے توفیق بخشی ان بارہ کی اصل تین وجہیں ہیں ان میں سے ہر ایك کافی وشافی ہے۔ پہلی یہ کہ اگر اس معترض کو قرآن وحدیث کے محاورات یا شان نزول میں علماء کی روایات جناب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منسوب ومرفوع تفسیر یا علماء اور جلیل القدر ائمہ کے کلمات کا علم ہوتا یا نظم قرآن کی سمجھ اور مفاد و معنی کی فہم اورکلام کوغرض مقصود پر رکھنے سے کچھ حصہ روزی ہوا ہوتاتو وہ جان لیتا کہ اکرم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع