30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البیان یلتحق بالمبین اذ لا یفید الارفع التشکیك وتعیین احد المحتملات فکان حکمہ کحکم القرینۃ والمفاد انما ینسب الی الکلام کما اوضحتہ الاصول فثبت بالاٰیۃ تفضیلہ رضی الله تعالٰی عنہ علی کل من عداہ فی التقویٰ والحمدلله علٰی مااولٰی۔ اقول: واخذ الافعل بمعنی کثیر الفعل فطام لہ عما یحتاج الیہ فی اصل وضعہ اعنی المفضل علیہ فیکون صرفا عن المعنی الحقیقی المتبادر فلا بدمنہ قرینۃ واین القرینۃ ولتکن حاجۃ وماذاالحاجۃ،نعم ھذا مفاد صیغۃ المبالغۃ وشتان مھما فلیتنبہ لھذا والله تعالٰی الموفق۔
الشبہۃ الثالثۃ:وھی تتعلق بالکبری من قیاس اھل السنۃ والجماعۃ ان المحمول فی قولہ تعالٰی" اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ"[1]ھو الاتقٰی فکان حاصل المقدمتین ان |
تو مجمل متشابہ ہوجائے گا،پھر بیان مبین(مجمل)سے ملحق ہوگا اس لئے کہ بیان کا یہی فائد ہ ہے کہ شك دور کرے اورمحتمل معانی میں سے کوئی ایك معین کردے تو بیان کا حکم وہی ہے جو قرینہ کا ہے اورکلام کا مفاد کلام ہی کی طرف منسوب ہوتاہے جیسا کہ اصول فقہ نے واضح کیا تو اس آیت سے صدیق اکبر کی فضیلت تقویٰ میں ہر امتی پر ثابت ہوگئی اورالله تعالٰی کیلئے اس کی نعمتوں پر حمد ہے۔ میں کہتاہوں اورافعل کو بمعنی کثیر الفعل لینا اس کو اس شَے سے الگ رکھنا ہے جس وہ اصل وضع کے لحاظ سے محتاج ہے یعنی مفضل علیہ تو یہ معنی حقیقی متبادرسے پھیرنا ہوگا اب تو قرینہ ضروری ہے اورقرینہ کہاں،اوراس کے لئے حاجت بھی چاہیے اورحاجت کیاہے،ہاں یہ مبالغہ کے صیغہ کا مفاد ہے اوراسم تفضیل اورمبالغہ میں فرق ہے۔ تیسراشبہہ:اس کا تعلق اہلسنت وجماعت کے قیاس کے کبرٰی کے ساتھ ہے کہ الله تعالٰی کے قول" اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ"میں محمول الاتقی ہے۔تو دونوں مقدموں کا حاصل یہ ہے ہوا کہ صدیق اتقٰی ہیں اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع