30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الطبرانی ایضًا فی المعجم الکبیر[1] وعبدالله بن احمد فی زاوئد الزھد، واما الحدیث المرفوع اعنی بہ استماع النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اشعارہ وتحسینہ علیہا فاصلہ مروی ایضا عند الحاکم من حدیث غالب بن عبدالله عن ابیہ عن جدہ حبیب بن[2] ابی حبیب وعند ابی سعد فی الطبقات وعند الطبرانی عن الزھری ورواہ الحاکم ایضا من حدیث مجالد عن الشعبی من قولہ کمثل حدیث [3] ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما والاصولی یعرف ان الموقوف فی مثل ھذا کالمرفوع اذ المجمل لا یبین بالرأی ولہذا ان لم یبین وانقطع عــــــہ نزول القراٰن عاد متشابھا،ثم ان |
روایت کیا معجم کبیر میں،اورعبدالله بن احمد نے زوائد زہد میں۔رہی حدیث مرفوع یعنی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا حضرت حسان کے اشعار کو سن کرانہیں سراہنا تو اس کی اصل بھی مستدرك حاکم میں غالب بن عبدالله کی حدیث میں بطریق غالب بن عبدالله عن ابیہ عن جدہٖ حبیب بن ابی حیبب مروی ہے(یعنی یہ حضرت غالب بن عبدالله نے اپنے والد عبدالله سے سنی انہوں نے اپنے باپ غالب کے دادا حبیب بن ابی حبیب سے سنی)اورطبقات ابن سعد میں اور طبرانی میں زہری سے مروی ہے،اور نیز حاکم نے مجالد کی حدیث میں بروایت شعبی انکا قول حدیث ابن عباس رضی الله کے بلفظہٖ مشابہ روایت کیا،اوراصولی جانتاہے کہ ایسی جگہ پر موقوف(صحابی کا قول)مرفوع(حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قول)کی طرح ہے،اس لئے کہ مجمل کا بیان رائے سے نہیں ہوتا لہذا اگر شارع نے بیان نہ کیااور قرآن کا نزول بند ہوگیا |
عــــــہ:یہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی وفات سے کنایہ ہے ۱۲منہ ۔
[1] المعجم الکبیر حدیث۱۲۵۶۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۸۹
[2] المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت۳/ ۶۴و۸۷،کنزالعمال حدیث۳۵۶۷۳و۳۵۶۸۵مؤسسۃ الرسالہ بیروت۵۲۳و۵۱۳،الدرالمنثوربحوالہ ابن عدی وابن عساکرمکتبۃ آیۃ الله العظمی قم ایران ۳/ ۲۴۱
[3] المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ دارالفکر بیروت۳/ ۶۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع