30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
استجب الله اکبر والاکبر علی روایۃ الرفع،اخرجہ ابوداود،والنسائی وابن السنی وقول ابن امسعود رضی الله تعالٰی عنہ [1] بین الصفاء والمروۃ "رب اغفر و ارحم انك انت الاعزاالاکرم،رواہ ابن ابی شبیۃ[2] بل الٰی قول کل مصل فی سجودہ سبحٰن ربی الاعلٰی " وعلی الثالث کانت الآیۃ مجملۃ فی حق المفضل علیھم والمجمل ان لم یبین عد من المتشابہا ت ولم یعد ھا أحد منھا لکنا بحمد الله وجدنا البیان من صاحب البیان علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام،اخرج الامام ابو عمر بن عبدالبر من حدیث مجالد عن شعبی قال سألت ابن عباس او سئل ای الناس اول اسلامًا قال اما سمعت قول حسان بن ثابت ؎ |
کی طرف اورنماز کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قول "اے رب! دعا سن لے اورقبول فرما،الله اکبر،الله اکبر،کی طرف۔اکبر کے مرفوع ہونے کی روایت پر اس حدیث کو روایت کیا ابوداود،نسائی اورابن السنی نے،اورصفاومرہ کے درمیان ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ کے قول "اے رب بخش دے اورمہرفرما بیشك توہی عزت والاکرم والاہے "کو نہیں دیکھتے۔اسے روایت کیا ابن ابی شیبہ نے،بلکہ سجدے میں ہر نمازی کے قول"سبحان ربی الاعلٰی"کو نہیں دیکھتے اورتیسری تقدیر پر ہر آیت مفضل علیہم کے حق میں مجمل ہوگی اورمجمل آیت کا بیان اگر نہ ہوا تو وہ متشابہ آیتوں میں شمار ہوگی حالانکہ اس آیت کو کسی نے متشابہات میں شمار نہ کیا،لیکن ہم نے بحمدالله اس آیت کا بیان صاحب بیان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پایا۔امام ابو عمر ابن عبدالله نے روایت کی حدیث مجالد سے انہوں نے شعبی سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس(رضی الله تعالٰی عنہما)سے پوچھا یا ابن عبا س سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے پہلے کو ن اسلام لایا۔انہوں نے فرمایا:کیا تم نے حسان بن ثابت کے یہ شعر نہ سنے: |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع