30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النصوص حدیثا وتنزیلافلو کان من باب التکلف فما اکثر التکلف فی افصح الکلام وکلام من ھو افصح الانام علیہ افضل الصلوٰۃ واکمل السلام،واغرب من ھذا زعم طریقتہ بریئۃ من التکلف مع انھا تحتاج الٰی ماھو ابرد وابعد فان الصدیق رضی الله تعالٰی عنہ لم یکن بالحقیقۃ أتقی لالموجودین فی حین من الاحیان لحیات سیدنا عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام علی أرجح الاقوال وزعم التحاقہ بالاموات لارتفاعہ الی السمٰوٰت کلمۃ ھو قائلھا ما علیھا دلیل ولا برھان،وان سلم فاین انت من سیدنا الخضرعلیہ السلام مع أن المعتمد المختار نبوتہ وحیاتہ[1] فان قلت انہ مختف عن الابصارمعتزل عن الامصار فالتحق بالاموات کان عذرًا أفسد من الاول فافھم علی أنا قد اثبتنا اطلاق السفۃ علٰی من سیکون کذا تجوز ولا تجوز الابقرینۃ ولا قرینۃ الاتخصیص الانبیاء |
عرفی کو تکلف وتاویل میں شمار کیا باجودیکہ یہ قرآن وحدیث کی نصوص میں شائع ہے تو اگر یہ تکلف کے باب سےہو تو افصح الکلام(قرآن)اورسب سے زیادہ فصیح حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام میں کس قدر تکلف ہوگا۔اوراس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ شاہ صاحب نے اپنے پسندیدہ طریقہ کو تکلف سے بری کہا جب کہ وہ بہت دور کی اوربہت بارد تاویل کا محتاج ہے اس لئے کہ صدیق رضی الله تعالٰی عنہ کسی وقت بھی تمام موجودین سے حقیقۃً زیادہ متقی نہ تھے اس لئے کہ راجح مذہب پر سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام دنیا میں زندہ ہیں اورآسمانوں میں حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے ہونےکے سبب انھیں اموات سے ملحق بتانا ایسی بات ہے جو انہوں نے کہی اوراس پر کوئی دلیل وبرہان نہیں ہے۔پھر اگر یہ بات تسلیم کرلیں تو تم سیدناخضرعلیہ السلام سے کہاں غافل ہو باوجودیکہ معتمد ومختاریہ ہے کہ وہ نبی ہیں اوردنیا میں زندہ ہیں تو اگر تم کہو کہ وہ نگاہوں سے پوشیدہ اورشہروں سے جداہیں اس بنا پر اموات سے ملحق ہیں تو یہ عذر پہلے سے زیادہ فاسد ہوگا تو تم سمجھ لو،علاوہ ازیں ہم ثابت کرچکے کہ صفت کا اطلاق ایسے شخص پر جو آئندہ صفت کا مصداق ہوگا مجاز ہے اورمجاز بغیر قرینہ کے ماننا درست نہیں اورقرینہ شرعی انبیاء کی تخصیص ہے،تو کلام کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع