30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: وان جعل الله الفطانۃ بمرأی العین من قلب وکیع اتقن وأیقن ان ھذا لایزید علی تلمیع ھب ان حدیث"العبرۃ بالخواتیم"[1] حق واجب التسلیم لکن الیس العقل السلیم شہیدًابانہ اذا ذکر أحد من الاحیاء الموجودین بنعت من النعوت لایفہم منہ الا اتصافہ فی الحال لاانہ یصیر ھکذا بالماٰل والتبادر دلیل الحقیقۃ والافتیاق الٰی قرینۃ تصرف الافہام،و تظھرالمرام و امارۃ المجاز فماذا یحوجنا الیہ مع استقامۃ الحقیقۃ من دون تکلف ولا تاویل، اما علٰی طریقتنا فالامر أبین واجلی، واما علٰی طریقۃ الشیخ العزیز عبد العزیز فلان امثال تلك التخصیصات تکون مرتکزۃ فی الاذھان من دون حاجۃ الی البیان،ولیس دلالۃ ھذا التلویح أدون من ارشاد التصریح ولہذا لا ینزل العام عن درجۃ القطعیۃ کما فی الکتب الاصولیۃ واعجب من ھذا عدہ تکلفا وتاویلا مع شیوعہ فی |
اقول:(میں کہتاہوں)اوراگر الله تعالٰی ذہانت کو قلب کےسامنے رکھے تو وہ محکم یقین کرلے گا کہ یہ ملمع سے زیادہ نہیں،مان لو کہ حدیث کا ارشاد ہے "خاتمہ کا اعتبار ہے "حق واجب التسلیم ہے لیکن کیا عقل سلیم شاہد نہیں کہ جب دنیا میں زندہ موجود لوگوں میں سے کوئی کسی وصف کے ساتھ مذکور ہو تو اس سے اس کافی الحال متصف ہونا ہی مفہوم ہوتا ہے نہ یہ کہ وہ ایسا آئندہ ہوجائے گا،اورتبادر(معنی کی طرف سبقت فہم)معنی حقیقی کی دلیل ہے اورقرینہ کی حاجت جو ذہن کو دوسرے معنٰی کی طرف پھیرے اورمقصد ظاہر کرے مجازی معنی کی علامت ہے تو ہمیں مجاز کی ضرورت کس لئے پڑی باوجودیکہ حقیقت بغیر تکلف وبغیر تاویل درست ہے ہمارے طریقے پر،تو معاملہ خوب ظاہر وباہر ہے، اورشیخ عبدالعزیز کے طریقہ پر حقیقی معنی کی درستگی اس لئے ایسی تخصیصات عرفی اذہان میں مرتکز ہوتی ہیں جن کے بیان کی حاجت نہیں ہوتی اور عرف عام کے اس اشارہ کی دلالت صراحت کی دلالت سے کم رتبہ نہیں،اوراسی لئے عام درجہ قطیعت(تیقن)سے نہیں گرتا،جیساکہ اصول فقہ کی کتب میں مصرح ہے،اوراس سے عجیب تریہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز علیہ الرحمہ نے اس(تخصیص) |
[1] صحیح البخاری کتاب القدرباب العمل بالخواتیم قدیمی کتب خانہ کراچی۲/ ۹۷۸،کنزالعمال حدیث۵۹۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۱۲۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع