30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الافعل حقیقتہ فی التفضیل ولا یسار الی الانسلاخ عنہ الا لضرورۃ دعت بقرینۃ قامت کما فی الاٰیتین اللتین تلونا وحیث لاضرورۃ ولا قرینۃ کما نحن فیہ لانقول بہ والمصیر الیہ اشبہ بالتحریف منہ بالتفسیر کما قد حققنا وھذا القدریکفی للرد علیھم، واما ماذکر من حدیث التخصیص عرفا فجری منہ علی تسلیم ماادعی الخصم من أن اللفظ بصیغتہ یشمل الانبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام وان بغیت الحق المرصوص فلا شمول ولا خصوص لأن الا تقٰی ان عم عم افرادہ وھم المفضلون المرجحون دون المرجوحین المفضل علیھم۔
وسر المقام بتوفیق الملك العلام ان الافضل لابد لہ من مفضل علیہ والمضل علیہ یذکر صریحا اذا استعمل مضافا اوبمن اما اذا استعمل باللام فلا یورد فی الکلام |
کوئی اچھائی نہیں،یا آیت کفار سے استہزاء کے طور پر جاری ہے،جیسا کہ مفسرین نے فرمایا ہے۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ اسم تفضیل کامعنٰی حقیقی تفضیل ہے اورتفضیل سے مجرد ہونے کی طرف بغیر ضرورت داعیہ بہ سبب قرینہ قائمہ نہ پھرے گی جیسا کہ ان دو آیتوں میں جو ہم نے تلاوت کیں اور جہاں نہ ضرورت ہو اورنہ قرینہ ہو وہاں ہم تفضیل سے مجرد ہونے کا قول نہ کریں گے اوراس طرف پھرنا تفسیر کی بہ نسبت تحریف سے زیادہ مشابہ ہے جیسا کہ ہم نے تحقیق کیا اور اس قدر انکے رد کے لئے کافی ہے،اور رہی وہ تخصیص عرفی کی بات جو شاہ صاحب نے ذکر فرمائی تو مدعی کا وہ دعوٰی کہ لفظ اپنے صیغہ کے سبب انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھی شامل ہے تسلیم کرنے کی تقدیر جاری ہوئی اور اگر تم حق محکم کو چاہو تو نہ شمول ہے نہ خصوص ہے اس لئے کہ اتقی اسم تفضیل اگر عام ہے تو اپنے افراد کو عام وشامل ہے۔اوراس کے افراد وہ ہیں جنہیں فضیلت وترجیح دی گئی ہے نہ کہ وہ مرجوح جن پر دوسروں کوفضیلت دی گئی۔ اوراس مقام میں علم والے بادشاہ کی توفیق سے راز یہ ہے کہ افضل کے لئے ایك مفضل اوردوسرا مفضل علیہ لازم ہے اور جب اسم تفضیل اضافت کے ساتھ یا من کے ساتھ مستعمل ہوتو مفضل علیہ صراحۃً مذکورہوتاہے، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع