30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اقول: وبالله التوفیق اما ماذکرمن ان ھذا یخالف اللسان العربیۃ فممنوع ومدفوع،الا تری الٰی قولہ تعالٰی " وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ ہُوَ اَہۡوَنُ عَلَیۡہِؕ"[1]۔ ولیس شیئ اھون علی الله تعالٰی من شیئ والمعنی فی نظر کم علی احد تاویلات فی عسٰی ولعل الواردین فی القران،والی قولہ تعالٰی" اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیۡرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیۡلًا ﴿۲۴﴾ "[2]ولا خیر للغیر ولاحسن لأ ھل الضیر اولاٰیۃ جاریۃ علٰی سبیل التھکم بھم کما قال المفسرون لکن الأمر أن |
میں کہتا ہوں اورتوفیق الله تعالٰی سے ہے،رہی وہ بات جو شاہ صاحب نے ذکر کی کہ یہ(اتقی بمعنی تقی ہونا)ممنوع ومدفوع ہے،کیا تم نہیں دیکھتے الله تعالٰی کا قول "اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائےگا اوریہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہوناچاہیے "حالانکہ الله تعالٰی کے لئے کوئی چیز دوسری چیز سے زیادہ آسان نہیں(یعنی الله تعالٰی کو ہر چیز پر یکساں قدرت حاصل ہے)اورآیت کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ بنانا تمہاری نظر میں زیادہ آسان ہونا چاہیے اوریہ عسٰی ولعل جو قرآن میں وارد ہیں ان کی تاویلات میں سے ایك تاویل کی بنا پر ہے اورکیا تم نہیں دیکھتے الله تعالٰی کا یہ قول "جنت والوں کا اس دن(سب سے عــــــہ)اچھا ٹھکانااورحساب کی دوپہر کے بعد(سب سے)اچھی آرام کی جگہ"حالانکہ غیر کے لئے خیر نہیں اورخسارہ والوں کیلئے |
عــــــہ:آیت کا ترجمہ ہم نے "کنزالایمان "سے نقل کیا ہے اوربریکٹ میں دوجگہ لفظ"سب سے " بڑھا دیا ہے تاکہ اس امر کی طرف اشارہ ہوکہ خیر و احسن کا اسم تفضیل کے لحاظ سے اصل ترجمہ اس طرح ہونا چاہیے تھا،مگر قرینہ حالیہ کے سبب صحیح وہ ہے جو اعلٰیحضرت علیہ الرحمہ نے کیا،اوراس سے ظاہر ہے کہ یہاں خیر و احسن کا حقیقی معنی تفضیل والا نہیں۔ازہری غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع