30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذتقلیلھم سوادالمومنین بالانعزال عنہم تقویۃ للمشرکین کذا قال المفسرون ھذا ماعندی،والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ وبالجملۃ فھبت نسائم التحقیق علی ان الوجہ ابقاء اللفظین علی ظاھر ھما،وانما تحتاج الی امرین لایعد شیئ منہما تکلفًاولاتغیرًا۔ الاول ان تنکیرنارًاللتعظیم وھو کما تری شائع فی الکلام الفصیح قرانا وقدیما وحدیثا واخذ التلظی بمعنی اشد مایکون حملا للمطلق علی فردہ الکامل وھو ایضا منتشر مستطیر۔ والثانی الاستخدام وھو کما سمعت اعلٰی اومن اعلی انواع البدیع او ارجاع الضمیر الی نفس الموصوف مجردا عن ۰الصفۃ وھذا لیس من التاویل فی شیئ علی ان غرضنا یتعلق باٰیۃ الا تقی ولا مساغ فیہ للتاویل بتا وقطعًاھکذاینبغی التحقیق والله ولی التوفیق والحمدلله رب العالمین۔
اذا وعیت ھذا ودریت مافیہ |
کہ منافقوں کا مسلمان کے گروہ کو کم کرنا مسلمانوں کے لشکر سے جداہوکر مشرکوں کو تقویت دیناہے ایسا ہے مفسرین نے فرمایا ہے،یہ ہے وہ جو میری رائے ہے،والله تعالٰی اعلم۔ خلاصہ یہ کہ اب تحقیق کی ہوائیں چلیں اس پرکہ وجہ تو یہی ہے کہ دونوں لفظوں کو انکے ظاہر پر رکھا جائے اورتمھیں حاجت صرف دو امر کی ہوگی اوران میں سے کوئی نہ تکلف کے شما ر میں ہے نہ تغیر کی گنتی میں۔ پہلی بات یہ کہ یہاں "نارًا"نکرہ تعظیم کے لیے ہے اوریہ اسلوب جیسا کہ تم جانتے ہوقرآن وحدیث اورقدیم وجدید کلام فصیح میں شائع ہے اور تلظی(آگ کی بھڑک)مطلق کو فرد کامل پر محمول کرتے ہوئے سخت ترین بھڑکنے کے معنی میں لیاجائے اوریہ بھی خوب شائع ہے۔ اوردوسری بات استخدام،اوروہ جیسا کہ تم نےسنا اقسام بدیع میں سب سے اعلٰی ہے یا منجملہ اعلٰی اقسام کے ہے یا ضمیر کو نفس موصوف کی طرف بلا لحاظ صفت لوٹائیں اوریہ تاویل سے کوئی لگاؤنہیں رکھتا۔علاوہ بریں ہماری غرض تو آیت اتقی سے ہے،اوراس میں قطعًاتاویل کی گنجائش نہیں۔اسی طرح تحقیق چاہیےاورالله تعالٰی توفیق کا مالك ہے اورساری خوبیاں الله کےلئے جو مالك ہے سب جہانوں کا۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی اورتم نے اس کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع