30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی " الْاَشْقَی ۙ﴿۱۵﴾ الَّذِیۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۶﴾"[1] فان الله سبحنہ وتعالٰی لم یرسل الاتقی ارسالا بل خصہ" الَّذِیۡ یُؤْتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ۱۸﴾"[2] ومعلوم ان التقی الفقیر لا مال لہ و انہ مجنب عن النار لاشک،فان کان الکلام علی الحصر کما زعمتم فالحصر لم یستقیم بعد والا فما ذا یلجئکم الی التاویل والعدول عن ظاہر التنزیل، عن ھذا نقول ان الوجہ ترك التکلف وصون اللفظین لاسیما الاتقی عن التغییر و التصرف لانعدام الحاجۃ فی احدی الآیتین و اندفاعہا بطریق اسلم فی الاخری کما یفیدہ الوجہان اللذان ذکرھما القاضی الامام مع ماشاھد نا ان التاویل یراد ولا مفاد ویقاد ولا ینقاد بید انی مایدر ینی لعل الجدال یوری نارا موقدۃ تطلع علی الافئد ۃ فیقوم قائل ان وجہی القاضی ایضا یعکرعلیہا بشی فلامناص من تشدید الارکان |
کےمعاملہ میں آپ نے صفت سے غفلت کی اس لئے کہ الله تعالٰی نے اتقی کو مطلع نہ رکھا بلکہ اسے اس کے ساتھ خاص کیا جو اپنا مال ستھراہونے کو راہ خدا میں دے اور یہ معلوم ہے کہ تقی فقیر کے پاس مال نہیں ہے حالانکہ وہ آتش دوزخ سے بے شك دور رہے گا۔تو اگر کلام بر سبیل حصر ہے جیسا کہ آپ لوگو ں کا زعم ہے تو حصر تواب بھی درست نہیں ہوااور اگر حصر پر بناء نہیں تو آپ کو تاویل اور ظاہر تنزیل سے عدول کی طرف کون سی چیز مضطرکرتی ہے اسی سبب سے ہم کہتے ہیں کہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ تکلف چھوڑا جائے اور دونوں لفظوں خصوصا اتقی کو تصرف وتغیر سے محفوظ رکھیں اس لئے کہ ایك آیت میں تاویل کی حاجت نہیں اور دوسری میں مسلك اسلم سے حاجت مند فع ہوجاتی ہے جیسا کہ ان دو وجہوں نے افادہ کیا جو قاضی امام نے ذکر فرمائیں باوجودیکہ ہم نے مشاہد ہ کیا ہے کہ تاویل مراد ہوتی ہے حالانکہ کوئی مفاد نہیں ہوتا اور وہ کھینچی جاتی ہے جبکہ وہ نہیں کھنچتی۔لیکن میں کیا جانوں شاید بحث روشن آگ کو بھڑ کائے جو دلوں پر چمکیں تو کوئی قائل کھڑا ہوجائے اور کہے کہ قاضی کی مذکورہ دو۲ وجہوں پر بھی کچھ غبار ہے لہذا ارکان کو مضبوط |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع