30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
النار عذابا کما فی الصحاح و نفعتہ شفاعۃ الشفیع المرتجی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حتی اخرج الی ضحضاح[1]علی خلاف من سائر الکافرین الذین لا تنفعہم شفاعۃ الشافعین،ویالیتہ لواسلم لکان من افضل اصحاب النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولکن قضاء الله لایرد وحکمہ الایعقب ولله الحجۃ السامیۃ ولاحول ولاحوۃ الا بالله العزیز الحکیم وقد فصلنا المسئلۃ فی بعض فتاونا واظہر نا بطلان قول من قال باسلامہ واذا کان ذلك ظہر ان الحصر فی الشقی المکذب ایضا غیر مستقیم الی ھذا اشار القاضی الامام حیث قال لایمکن اجراء ھذہ الایۃ علی ظاھرھا، و یدل علی ذلك ثلثۃ اوجہ۔
احدھا انہ یقتضی ان لایدخل النار"الا الاشقی الذی کذ ب وتولی"فوجب فی الکافر |
سے ہلکا عذاب ہے جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہوا اور شفیع مرتجی (امید گاہ عاصیاں)صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت نے انہیں نے نفع دیا تو ان پر تخفیف کے لئے انہیں جہنم کے بالائی سرے پر رکھ دیا گیا اور یہ معاملہ ان کے ساتھ سارے کافرو ں کے بر خلاف ہے جنہیں شفیعوں کی شفاعت کام نہ دے گی اور کاش وہ ایمان لاتے تو نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے افضل صحابہ سے ہوتے۔لیکن الله کا لکھا نہیں ٹلتا او ر اس کاحکم نہیں بدلتا اور الله ہی کے لئے حجت بلند اور معصیت سے پھرنے کی قوت اورطاعت کی طاقت الله عزوجل حکیم کے دئےبغیر نہیں،اور ہم نے اس مسئلہ کو اپنے بعض فتاوی میں تفصیل سے بیان کیا اور ابوطالب کے اسلام کے قائل کی رائے کا بطلان ظاہر کیا ہے اور جب یہ با ت یوں ہے تو ظاہر ہوا کہ حصر شقی مکذب (جھٹلانے والے) میں بھی درست نہیں اسی طرف امام ابوبکر نے اشارہ کیا چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو اس کے ظاہری معنی پر جاری کرنا ممکن نہیں اور اس پر تین و جوہ دلالت کرتی ہیں۔ ان میں سے ایك یہ ہے کہ یہ حصر اس کا مقتضی ہے کہ جہنم میں وہی کافر جائے گا جو سب سے بڑا بد بخت ہو جس نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع