30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کانك ترید قولہ وابیض یستسقی،و ذکر ابیاتا فقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اجل کما اخر جہ البیہقی فی دلائل النبوۃ [1] عن سیدنا انس رضی الله تعالٰی عنہ فانظر الی قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم "لله در ابی طالب"وقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم" لوکان حیا لقرت عیناہ" وقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من ینشد نا قولہ" ولم ینقل عنہ مرۃ انہ رد علی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وکذبہ فیہ بل ھو القائل فی تلك القصیدۃ مخاطبا لقریش ؎ لقد علموا ان ابننا لامکذب لدینا ولایعنی بقول الاباطل [2] ولذا کان اھون اھل |
کرم الله تعالٰی وجہہ نے عرض کیا گویا سرکار کی مراد ان کا وہ قصیدہ ہے جسمیں انہوں نے عرض کی"وہ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے ذریعہ بارش طلب کی جاتی ہے۔اور سید نا علی کرم الله تعالٰی وجہہ نے چند شعر پڑھے تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:ہاں میں یہی چاہتا تھا۔جیسا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں سیدنا انس رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا تو سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کے قول"لله در ابی طالب"(الله کےلئے ابوطالب کی خوبی ہے) کو دیکھو اور حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس فرمان کو دیکھو کہ اگر ابو طالب زندہ ہوتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں،اور حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد پر نظر کر و کہ ہمیں کون ابوطالب کے شعر سنائے گا۔اور ایك بار بھی منقول نہ ہوا کہ ابو طالب نے سرکار کی کسی بات کو رد کیا ہو یا سر کار کو جھٹلایاہو،بلکہ خود اسی قصید ہ میں قریش سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ خدا کی قسم لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا فرزند ہمارے نزدیك ایسا نہیں کہ جھٹلایا جائے اور نہ اسے جھوٹی باتوں سے کام ہے۔ اور اسی وجہ سے ابوطالب پر تمام دوزخیوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع