30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وای شیئ اکبر دلالۃ من الاحتیاج الی تصحیح الکلام ولیس تاویل الاشقی بالشقی اقرب الی الظاھر من ھذا الحصر من شیوعہ و کثرۃ وقوعہ نظما ونثر ا وتصحیح الکلام قرینۃ کافیۃ فی امثال ھذا المقام الاتری انك اذا سمعت رجلا یقول زید ھو الکریم علمت اول وھلۃ من دون تامل ولامہلۃ ان مرادہ ان لیس کریم مثلہ لا ان لاکریم مثلہ وھذا ظاھر جدا،ھذا مایتعلق بحکم الاشقی،ولاشك ان الکلام ھہنامحتاج بظاھرہ الی تاویل او توجیہ لکن ابا عبیدۃ زاد فی الشطر نج بغلۃ ثم تتابع فی قوم من المتاخرین ینقلون کلامہ من دون تنقیح کما حکینا لك دیرنہم من کلام الامام العلامۃ السیوطی رحمہ الله تعالٰی حملہ علی ذلك ان ظن ان ایۃ الاتقی ایضا محتاجۃ الی التاویل حیث قال و ان زعمت انہ تعالٰی نکرالنار الی اخر الخ مانقلنا عنہ فلم یثبت ان اخذ الاتقی بمعنی التقی لیشمل کل مؤمن ووافقہ علی ذلك الزمخشری وغیرہ لکنہم |
اور کلام کی تصحیح کی حاجت سے بڑی کو ن سی دلیل ہے اور اشقی کی تاویل شقی سے اس حصر کی بہ نسبت ظاہر سے نزدیك تر نہیں باوجود اس کے یہ حصر عرف میں شائع ہے اور نظم ونثر میں بکثرت واقع ہے اور تصحیح کلام کی حاجت اس جیسے مقامات میں قرینہ کا فیہ ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ جب تم کسی کو یہ کہتےسنو کہ زید ہی کریم ہے تو پہلی فرصت میں تم جان جاؤ گے کہ زید جیسا کوئی کریم نہیں نہ یہ کہ زید کے سواکوئی کریم نہیں اور یہ خوب ظاہر ہے تو یہ حکم اشقی سے متعلق تھا اور یہ کوئی شك نہیں کہ اس مقام پر کلام اپنے ظاہر سے تاویل یا توجیہ کا محتاج ہے لیکن ابوعبیدہ نے شطر نج کے مہروں میں بغلہ (خچر) بڑھا دیا پھر متاخرین میں سے کچھ لوگ پے در پے اس کا کلام بغیر تنقیح کے نقل کرتے رہے،جیسا کہ ہم نے تم سے امام علامہ سیوطی کے کلام سے ان کی عادت کی حکایت کی،اس کے لئے اس کا سبب یہ ہوا کہ اس نے یہ گمان کیاکہ وہ آیت بھی جس میں اتقی وارد ہوا تا ویل کی حاجتمند ہے اس لئے کہ اس نے کہا کہ اگر تم کہو کہ الله تعالٰی نے نار کو نکرہ فرمایاالخ تو کچھ دیر نہ ٹھہراکہ اتقی کو بمعنی تقی کے لیا تاکہ آیت ہر مومن کو شامل ہوجائے اور اسی بات میں زمخشری وغیرہ نے اس سے اتفاق کیا مگر اس کی تاویل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع