30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
غیر حاصل الا لہذا الاشقی [1] انتہی والی نحو من ھذا یمیل ماجزم بہ الزمخشری فی الکشاف مقتصرا علیہ ونقلہ الامام النسفی رامزا الیہ من ان الایۃ واردۃ فی الموازنۃ بین حالتی عظیم من المشرکین وعظیم من المؤمنین فارید ان یبالغ فی صفتیہما المتناقضتین،فقیل الاشقی وجعل مختصا بالصلی کان النار لم تخلق الالہ،وقیل الاتقی وجعل مختصا بالنجاۃ کان الجنۃ لم تخلق الا لہ [2] انتہی۔
اقول: وھذا ھو الحصر الادعائی الذی وصفنا لك ولا شك انہ دائر سائر بین البلغاء یشہد بھذا من تتبع دواوین العرب وکلامہم فی المدح والھجاء ومعلوم ان الزمخشری لہ یدطولی وکعب علیا فی فنون الادب وصنائع الادباء فقول الرازی انہ ترك الظاھر من غیر دلیل[3] انتہی غیر مستحسن |
سب سے زیادہ سزا وار ہے اور استحقاق کی زیادتی اسی سب سے بڑے بدبخت کو حاصل ہے انتہی،اور اس سے قریب توجیہ کی طرف وہ توجیہ مائل ہے جس پر زمخشری نے جزم کیا کشاف میں اس پر اکتفا کرتے ہوئے اور زمخشری کی وہ تو جیہ امام نسفی نے اسکی طرف اشارہ فرماتے ہوئے نقل فرمائی وہ توجیہ یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے ایك عظیم او رمومنین کے ایك عظیم کے دو متناقض صفتوں میں مبالغہ فرمایا جائے تو اشقی فرمایا گیا اور اسے آتش جہنم میں جانے کیلئے مخصوص ٹھہرایا گیا گویا جہنم کی آگ اسی کے لئے پیدا ہوئی ہے اور اتقی فرمایا گیا اور نجات کے لئے مخصوص فرمایا گیا گویا جنت اسی کےلئے بنی ہے انتہی۔ میں کہتا ہوں یہی وہ حصرا دعائی جس کا بیان ہم نے تم سے کیا اور کوئی شك نہیں کہ یہ بلغاء میں دائر وسائر ہے اس کی گواہی عرب کے دیوانوں کو اور مدح وہجو میں ان کےکلام کو خوب مطالعہ کرنے والا دے گا،اور یہ معلوم ہے کہ زمخشری کو فنون ادب اور ادبیوں کی صنعتوں میں بڑی دسترس ہے اور اونچا درجہ حاصل ہے تو فخر رازی کا زمخشری پر یہ اعتراض کہ اس کی یہ توجیہ ظاہر کو بے دلیل چھوڑنا ہے انتہی خوب نہیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع