30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لفظ المنبئی عن الشدۃ معنی کما فی قتل وقتل وقاتل وقتال مع ان باب الادعاء واسع وقصر ا لوصف علی اعظم من یوصف شائع قال تعالٰی فی المہاجرین "k اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾ "[1]ویمکن ان تجعل من ھذا القبیل امثال قولہ تعالٰی " اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾"[2]۔ وقد حققنا المسالۃ فی خاتمۃ رسالتنا سلطنۃ المصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بما لا مزید علیہ ھذا وکان قلب ابی عبیدۃ رکن الی ھذا الوجہ الذی ذکر القاضی الامام شیئا قلیلا ثم بدا لہ مابدا فانحجم کما حکینا لك کلامہ ستسمع منا جوابہ ان شاء الله تعالی۔ الثانی من وجھی القاضی"ان المراد بقولہ تعالٰی نارا تلظی النیران اجمع،ویکون المراد بقولہ تعالٰی لا یصلہا الا الاشقی ای ھذا الاشقی بہ احق،وثبوت ھذا الزیادۃ فی الاستحقاق |
میں لفظی شدت ہے جو معنوی شدت کی خبر دیتی ہے جیسے لفظ قتل اور قتل اور قاتل وقتال میں،اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ ادعاء کا باب واسع ہے اور صفت کو سب موصوفین سے بڑے موصوف پر مقصود رکھنا عرف شائع ہے۔الله تعالٰی کا مہاجرین کے بارے میں ارشاد ہے " اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ۚ﴿۸﴾ " (یہی لوگ سچے ہیں)اور ممکن کہ تم الله تعالٰی کے قول (بے شك وہی ہے سنتا جانتا ہے) کہ اس قبیل سے قرار دو۔ اورہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خاتمہ میں ایسے کلام سے جس میں زیادتی نہیں ہوسکتی کی ہے اور اس توجیہ کی طرف جو قاضی امام نے بیان فرمائی ابو عبیدہ کا دل کچھ مائل ہوا تھا پھر اس کو سوجھی جو سوجھی تو وہ اس سے منحرف ہوگیا جیسا کہ ہم تم سے اس کا کلام ذکر کر چکےاور عنقریب تم ہم سے اس کا جواب سنو گے ان شاء الله تعالٰی۔ قاضی کی ارشاد فرمودہ دو وجہوں میں سے دوسری یہ ہے کہ الله تعالٰی کے قول نارا تلظی سے مراد تمام آتشیں ہیں اور الله تعالٰی کے قول لایصلہا الا الاشقی (اس میں نہ جائے گا مگر وہ سب سے بڑا بدبخت ) سے مراد یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا بد بخت ان تمام آزمائشوں کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع