30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اراد ا الضلال البعید وھو الکفر۔ اخرج الامام احمد و الطبرانی وغیرھما عن ابی عامر الاشعری رضی الله تعالٰی عنہ قال سالت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عن ھذہ الایۃ فقال لایضرکم من ضل من الکفار اذا اھتدیتم [1]والعجب ان الرازی جنح بنفسہ الی نحومن ھذا فی قولہ تعالٰی "نار حامیۃ"قال والمعنی ان سائر النیران بالنسبۃ الیہا کانہا لیست حامیۃ وھذ القدر کاف فی التنبیہ علی قوۃ سخونتہا نعوذ بالله منہما [2]الخ،فما للشعیر یوکل ویذم۔ اقول:لك ان تقول ان لظی من المجرد وتلظی من المزید و زیادۃ اللفظ تدل علی زیادۃ المعنی،کما قالوا فی الرحمن والرحیم وغیر ذلك مع فیہ من التشدید |
"ضلال بولا اور ضلال بعید مراد لیا اور وہ کفر ہے۔ امام احمد و طبرانی وغیر ہمانے ابو عامر اشعری رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کی انہوں نے فرمایا میں نےرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ سے دریافت کیا اس آیت کے بارے میں تو حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ جو گمراہ ہوا(یعنی کافر لوگ)جبکہ تم راہ پر ہو۔ اور تعجب تو یہ ہے کہ فخررازی خود اس کے قریب توجیہ کی طرف مائل ہوئے الله تعالٰی کے قول نار حامیۃ کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ ہر آگ جہنم کی آگ کے مقابل گویا گرم ہی نہیں اور اتنی بات آتش جہنم کی سخت گرمی پر متنبہ فرمانے کو کافی ہے ہم الله کی اس سے پناہ مانگتے ہیں جو کھایا جائے او ربرا بھی کہا جائے۔ میں کہتا ہوں اور تمہیں پہنچتاہے کہ تم کہو کہ لظی مجرد کے قبیل سے ہے او رتلظی مزید کے قبیل سے ہے اورلفظ کی زیادتی معنی کی زیادتی پر دلالت کرتی ہے،جیسا کہ رحمن ورحیم وغیر ہ میں علماء نے فرمایا اس کے ساتھ تلظی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع