30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بیانیہ وصفۃ اخلاصہ فی عبودیتہ [1]انتھٰی والثانیۃ ان توصیفہ بالتلظی ینافی ھذا التخصیص لانہ وصف مطلق النار لا نارمخصوص۔اقول ولیس بشیئ اذ لا یمتنع توصیف فرد عظیم من جنس بوصف عام نشترك فیہ الافراد جمیعا و انما الممتنع عکسہ،اعنی توصیف جمیع الافراد بما یختص بہ فرد خاص،الاتری الی قولہ تعالی" وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌۚ "[2] مع انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اعظم الرسل واکرمہم بالاطلاق،والرسالۃ وصف عام یشترك فیہ المرسلون جمیعا،ولیس فی الایۃ مایدل علی القصر ینافی العموم علی ان التلظی مقول بالتشکیك فیجوز ان یراد ھنا تلظ خاص لیس کمثلہ تلظ کما قال الله سبحنہ وتعالی" یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ "[3]اطلق الضلال و
|
کرسکتا۔ دوسری یہ کہ آگ کو تلظی (بھڑکنے) سے موصوف فرمانا اس تخصیص کے منافی ہے اس لئے کہ بھڑکنا مطلقا ہر آگ کی صفت ہے نہ کہ کسی خاص آگ کی۔میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض کوئی چیز نہیں اس لئے کہ کسی جنس کے عظیم فرد کو ایسے عام وصف سے جس میں سارے افراد شریك موصوف کرنا ممتنع نہیں،ممتنع تو اس کا عکس ہے یعنی تمام افراد کو ایسی صفت سے موصوف کیا جائے جو کسی خاص فرد کی صفت ہوگیا تم نہیں دیکھتے الله تعالٰی کے اس قول کی طرف"اور محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تو ایك رسول ہیں"حالانکہ حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سب رسولوں سے مطلقا افضل و اعلی ہیں اور رسالت ایك وصف عام ہے جس میں سب رسول شریك ہیں،اور آیت میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو حصر پر دلالت کرتا ہو کہ عموم کے منافی ہو،مزید بر آں تلظی (بھڑکنا) کلی مشکك ہے لہذا جائز ہے کہ اس جگہ خاص تلظی (بھڑکنا) مراد ہو جس کے مثل کوئی تلظی نہ ہو،جیسے الله تعالٰی سبحنہ وتعالٰی نے فرمایا:"اے ایمان والو! تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا وہ جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع