30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وردہ الرازی بان قولہ تعالی"نارا تلظی"یحتمل ان یکون ذلك صفۃ لکل النیران وان یکون صفۃ لنار مخصوصۃ لکنہ تعالٰی وصف کل نار جہنم بھذا الوصف فی ایۃ اخری فقال" اِنَّہَا لَظٰی ﴿ۙ۱۵﴾ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾"[1]
اقول: یترا أی من ھذہ العبارۃ للایراد وجہتان: الاولی ان الموردکانہ ظن ان القاضی الامام یدعی تخصیص النار بصفۃ التلظی کما یتخصص الغلام فی قولنا جاء نی غلام عاقل بصفۃ العقل،ومن ھذا الطریق یقول ان المراد نار مخصوصۃ اعظم النیران فلا یراد ح ظاھر الورود اذ الاوصاف انما تخصص اذا کانت خصائص توجد فی فرد دون اخر والتلظی لا یختص بناردون نار۔الاتری ان الله سبحنہ وتعالٰی وصف النار مطلقا"n اِنَّہَا لَظٰی ﴿ۙ۱۵﴾ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾"[2]ولکن لم یکن القاضی الامام |
اور رازی نے اس قول کو یوں رد کیا کہ الله تعالٰی کے قول نارًا تلظی میں احتمال ہے کہ وہ سب آتشوں کی صفت ہو اور ممکن ہے کہ مخصوص آتش کی صفت ہو۔لیکن الله تعالٰی نے جہنم کی سب آتشوں کایہی وصف دوسری آیت میں فرمایا،اس کا ارشاد گرامی ہے:" اِنَّہَا لَظٰی ﴿ۙ۱۵﴾ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾"وہ تو بھڑکتی آگ ہے کھال اتارلینے والی۔ میں کہتا ہوں اس عبارت سے اعتراض کی دو۲ جہتیں نطر آتی ہیں۔ پہلی تو یہ ہے کہ گویا معترض نے یہ گمان کیا کہ قاضی امام ابو بکر آتش جہنم کے لپٹ مارنے کی صفت سے مخصوص ہونے کے مدعی ہیں اس طور پر جیسے غلام ہمارےقول جاءنی زید عاقل میں صفت عقل سے مخصوص ہے اور اس طریقے سے وہ فرماتے ہیں کہ مراد خاص آگ ہے جو سب سے بڑی آگ ہے،تو اعتراض کا ورود اس صورت میں ظاہر ہے اس لئے کہ اوصاف ذات کے ساتھ اسی وقت خاص ہوتے ہیں جبکہ وہ اس فرد کا خاصہ ہو ں کہ دوسرے میں نہ پائے جائیں اور لپٹ مارنا ایسا نہیں کہ ایك آگ کی خاص صفت ہو دوسری کی نہ ہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ الله سبحنہ وتعالٰی مطلقا آتش جہنم کا وصف بیان فرماتا ہے: "n اِنَّہَا لَظٰی ﴿ۙ۱۵﴾ نَزَّاعَۃً لِّلشَّوٰی ﴿ۚۖ۱۶﴾" (یعنی وہ تو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع