30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
القاضی الامام ابو بکر کما |
قاضی امام ابوبکر نے جیسا کہ امام فخر رازی نے مفاتیح الغیب |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) بعض الاصدقاء فطالعت فیہ من ھذا المقام ورایت المولی الفاضل استاذ استاذی عبدالعزیز ذکر الدفع ھذاالایراد اعنی نقض الحصر فی الکفار بد خول بعض الفجار النار بوجھین اخرین جیدین الاول ان المراد بالنار نار مخصوصۃ بالکفار،والثانی ان دخول بعض المومنین لما کان تطہیرا،وتادیبا کان کلا دخول وانما الدخول کل الدخول دخول لیس بعدہ خروج فالحصر بھذا المعنی وھو حق صحیح بلا امتراء انتہی۔ بالحاصل اقول: ما انعمہما من وجہین وادفعہما لکل شین لکنك یا عریف انت خبیر بانہما یجریان ایضا بعد شیئ من تغیر العبارۃ فیما اذا حملنا الاشقی علی معناہ الحقیقی کما ستسمع منا ان شاء الله تعالٰی فیا لیت المولی الفاضل لما تنبہ علی ھذین کما تنبہنا تجنب التاویل کما اجتبینا اذ البد ایۃ بتاویل الاشقی بالشقی ثم التحصن بھذین الحصنین الما نعین |
میں نے اس میں اس مقام کا مطالعہ کیاا ور میں نے دیکھا کہ مولی فاضل استاذ استاذی عبدالعزیز نے اس اعتراض کے دفع کے لئے یعنی اس حصر کا کفارمیں بعض فجار کے آتش جہنم میں داخل ہونے سے منقوض ہونا دو اور بہتر وجہیں ذکر کیں،پہلی یہ کہ نار سے مراد وہ نارہے جو کافروں کے لئے مخصوص ہے۔دوسری یہ کہ بعض مسلمانوں کا آگ میں جانا جبکہ ان کی تطہیر و تہذیب کے لئے ٹھہرا،تو یہ آگ میں جانا نہ جانے کے مثل ہے اور آگ میں بالکل جانا وہ جانا ہے جس کے بعد آگ سے نکلنا نہ ہوگا تو آیت کا حصر کفار میں اس معنی پر ہے اور بے شك حق و صواب ہے۔ الحاصل میں کہتا ہوں یہ دونوں وجہیں کس قدر اچھی ہیں اور ہر خرابی کی کیسی دافع ہیں،لیکن اے جاننے والے ! تم خبردار کہ یہ دونوں وجہیں عبارت کی قدرے تفسیر کے بعد اس صورت میں بھی جاری رہتی ہیں جب ہم اشقی کو اس کے معنی حقیقی پر رکھیں جیسا کہ تم ہم سے سنوگے ان شاء الله تو کاش مولائے فاضل جب ہماری طرف ان دونوں وجہوں پر متنبہ ہوئے اسی طرح تاویل سے بچتے جیسے ہم بچے،اس لئے کہ پہلے اشقی کی تاویل شقی سے کرنا پھر ان دو محکم وجہوں جو اصل تاویل سے مانع ہیں سے تمسك (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع