30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لایدخلہا احد غیرہ کالفجار والکافرین القاصرین عنہ فی الشقاء والاستکبار وھذا باطل قطعا فاختار الواحدی و الرازی والقاضی المحلی وابو السعود واخرون ماملحظہ ان لیس المراد بالاشقی رجل مخصوص یکون اشقی الاشقیاء بل المعنی من کان بالغا عــــــہ فی الشقاء |
کہ اس کا تقاضایہ ہے کہ دوزخ میں وہی جائے جو کافرو ں میں سب بد نصیبو ں سے بڑا بد نصیب ہو تو لازم آئے گا کہ وہ فجار و کفار جو بد نصیبی اور گھمنڈمیں اس سے کم رتبے کے بد نصیب ہوں دو زخ میں نہ جائیں،اور یہ قطعا باطل ہے،لہذا واحدی و رازی وقاضی ومحلی وابو السعود اور دیگر مفسرین نے یہ اختیار کیا جن میں یہ لحاظ ہے کہ اشقی سے مراد کوئی خاص نہیں جو سب سے بڑا شقی ہو بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شقاوت میں حد کو پہنچا ہواہو اور |
|
عــــــہ:قولہ بالغا فی الشقاء الخ"انت خبیر بانا قر رنا کلامہم بحیث یندفع عنہ یراد قوی کان یتخالج فی صدری تقریر الایراد ان المؤمن الفاجر لہ قسط من الشقاوۃ کما ان لہ قسطا عظیما من السعادۃ،ولیس ان الشقاء یختص بالکفرۃ،الاتری ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سمی الخبیث الشقی عبدالرحمن بن ملجم الذی قتل السید الکریم المرتضی رضی الله تعالٰی عنہ وخضب الحیۃ الکریمۃ بدم راسہ الاقدس اشقی الاخرین کما ورد بطریق عدیدۃ عن سید نا علی کرم الله تعالٰی وجہہ وانما کان ھذاك الخبیث رجلا من الخوارج واذا کان الامر ھکذا |
(قولہ بدبختی میں حد کو پہنچا ہو الخ) تم خبردار ہو کہ ہم نے ان علماء کے کلام کی تقریر اس طور پر کی جس سے وہ قوی اعتراض جو میرے سینے میں متردد تھا دفع ہوجائے۔اس اعتراض کی تقریر یہ ہے کہ مومن فاجر کے لئے بدبختی سے ایك حصہ ہے جیسا کہ اس کےلئے سعادت سے عظیم بہرہ ہے اورایسا نہیں کہ بد بختی کافروں کیلئے خاص ہے،کیا تم نہیں دیکھتے کہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس خبیث شقی عبدالرحمن بن ملجم کو جس نے سید کریم مرتضی علی رضی الله تعالٰی عنہ کو شہید کیا اور ان کی ریش مبارك کو ان کے سر اقدس کے خون سے رنگین کیا پچھلوں کا سب سے بڑا بدبخت فرمایا،جیسا کہ سیدنا علی کرم الله وجہہ سے متعدد سندوں سے روایت ہے اور یہ خبیث (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع