30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
المقدمۃ الرابعۃ:ھذا التاویل الذی فتحنا ابواب الکلام علی ایہا نہ اعنی تفسیر الاتقی بالتقی انما ھو مروی عن ابی عبیدۃ کما صرح بہ العلامۃ النسفی رحمہ الله تعالٰی فی مدارك التنزیل [1]وحقائق التاویل وابوعبیدۃ ھذا رجل نحوی لغوی من الطبقۃ السابعۃ اسمہ معمر بن المثنی کان یری رأی الخوارج وکان سلیط اللسان وقاعا فی العلماء وتلمیذہ ابو عبیدالقاسم بن سلام احسن منہ حالا وابصر منہ بالحدیث انبأنا مفتی مکۃ سیدی عبدالرحمن عن جمال بن عمر عن الشیخ محمد عابد بن احمد علی عن الفلانی عن ابن السنۃ عن المولی الشرف عن محمد ابن ارکماش الحنفی عن حافظ ابن حجر العسقلانی قال فی التقریب معمر بن المثنی ابو عبیدۃ التیمی مولاھم البصری النحوی اللغوی صدوق اخباری و قدرمی برای الخوارج من السابعۃ مات سنۃ ثمان ومائتین وقیل بعد ذلك وقد قارب المائۃ [2] انتہی۔ |
چوتھا مقدمہ:یہ تاویل جس کے ضعف بتانے کے لئے ہم نے کلام کے دروازے کھولے (یعنی اتقی کی تفسیر تقی سے کرنا) یہ صرف ابو عبیدہ سے منقول ہے۔چنانچہ اس کی تصریح علامہ نسفی نے مدارك التنزیل میں کی ہے،اور یہ ابوعبیدہ ایك آدمی ہے نحو ولغت کا عالم،جوساتویں طبقہ پر ایك فرد ہے،اس کانام معمر بن المثنی ہے،خارجیوں کا عقیدہ رکھتا تھا،اور یہ بدزبان علماء کا بدگو تھا،اور اس کے شاگرد ابو عبید قاسم بن سلام کا حال اس سے اچھا تھا اور انہیں حدیث میں اس سے زیادہ بصیرت تھی۔مجھے مفتی مکہ سیدی عبدالرحمن نے جمال بن عمر سے خبردی انہوں نے شیخ محمد عابد بن احمد علی عن الفلانی سے روایت کی انہوں نے ابن السنۃ سے انہوں نے مولی شریف سے انہوں نے محمد بن ارکما ش حنفی سے انہوں نے حافظ ابن حجر عسقلانی سے روایت کی کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے تقریب میں فرمایا معمر بن مثنی ابو عبیدہ تیمی بنوتیم کا آزاد کردہ،بصری نحوی،لغوی سچا ہے تا ریخ کا راوی ہے،اورخوارج کے مذہب سے متہم کیا گیا،طبقہ ہفتم کے علماء سے ہے ۲۰۸ھ میں انتقال ہوا،اور بعض کا قول ہے کہ اس کے بعد وفات ہوئی اور عمر تقریبًا سوسال ہوئی انتہی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع