30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الواجبات وتارك المحرمات،والسابق یدخل فیہ من سبق فتقرب بالحسنات مع الواجبات فالمقتصدون اصحاب الیمین والسابقون السابقون اولئك المقربون،ثم ان کلامنہم یذکر ھذا فی نوع من انواع الطاعات کقول القائل السابق الذی یصلی فی اول الوقت،و المقتصد الذی یصلی فی اثنائہ و الظالم لنفسہ الذی یؤخر العصر الی الاصفرا ر او یقول السابق المحسن بالصدقۃ مع الزکوۃ،و المقتصد الذی یؤدی الزکاۃ المفر و ضۃ فقط،والظالم مانع الزکوۃ [1] اھ۔ وعن الزرکشی"ربما یحکی عنہم عبارات مختلفۃ الالفاظ فیظن من لافہم عندہ ان ذلك اختلاف محقق فیحکیہ اقوالا و لیس کذلك بل یکون کل واحد منہم ذکر معنی من الایۃ لکونہ اظہر عندہ ا و الیق بحال السائل وقد یکون بعضہم یخبر عن الشیئ بلازمہ ونظیرہ والاخر بمقصودہ |
واجبات کی تعمیل اور محرمات کو تر ك کرنے والے کو شامل ہے او رسابق میں وہ داخل ہے جو سبقت کرے تو واجبات کے ساتھ حسنات سے الله کی قربت حاصل کرے تو مقتصد لوگ دہنے ہاتھ والے ہیں اور سابق سابق ہیں وہی الله کے مقرب ہیں پھر ان میں سے ہر عالم اس مثال کو انواع عبادات میں سے کسی قسم میں ذکر کرتا ہے جیسے کسی نے کہا:سابق وہ ہے جو اول وقت میں نماز پڑھے اورمقتصد وہ ہے جو درمیان وقت میں پڑھے اور ظالم وہ ہے جو عصر کو سورج زرد ہونے تك موخر کر دے،اور کوئی کہے،سابق وہ ہے جو صدقہ نفل زکوۃ کے ساتھ دے کرنیکی کرے،او رمقتصد وہ ہے جو صرف زکوۃ فرض دے،اور ظالم وہ ہے جو زکوۃ دنہ دے اھ۔ اور سیوطی نے زرکشی سے نقل کیا بسا اوقات علماء سے مختلف عبارتیں منقول ہوتی ہیں تو جو فہم نہیں رکھتا یہ گمان کرتا ہے کہ یہ اختلاف حقیقی ہے تو وہ اس کو کئی قول بنا کر حکایت کرتا ہے،حالانکہ بات یوں نہیں،بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ہر عالم آیت کا ایك معنی ذکر کرتا ہے اس لئے کہ وہ اس کے نزدیك ظاہر تر یا حال سائل کے زیادہ شایاں ہوتا ہے او رکبھی کوئی عالم شے کا لازم یا اس کی نظیر بتاتا ہے اور دو سرا اس کا مقصود |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع