30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فثبت بحمد الله ان بعض معانیہ لاینافی بعضا ولا یوجب وجہ لوجہ رفضا من جراء ھذا تری العلماء لم یزالو محتجین علی احدالتاویلات،ولم یمنعہم عن ذلك علمہم بان ھناك وجوھا اخر لاتعلق لہا بالمقام،وعلام کان یصدھم وقد علموا ان القرآن حجۃ بوجوھہ جمیعا ولیس ھذا لاتفننا وتنویعا ھذا ھوالاصل العظیم الذی یجب المحافظۃ علیہ،انبانا المولی السراج عن المفتی الجمال عن السنۃ السندی عن الشیخ صالح عن محمد بن السنۃ وسلیمان الدرعی عن الشریف محمد بن عبدالله عن السراج بن الالجائی عن البدر الکرخی والشمس العلقمی کلھم عن الامام جلال الملۃ و الدین السیوطی قال فی الاتقان ناقلا عن ابن تیمیۃ الخلاف بین السلف فی التفسیر قلیلل وغالب مایصح عنہم من الخلاف یرجع الی اختلاف تنوع الاختلاف تضاد۔وذلك صنفان: احدھما ان یعبر واحد منہم عن المراد بعبارۃ غیر عبارۃ صاحبہ تدل علی معنی فی المسمی غیر المعنی الاخر من اتحاد المسمی |
اب بحمد الله ثابت ہوا کہ اس قرآن کا کوئی معنی دوسرے کے متنافی نہیں اور کوئی وجہ دوسری وجہ کو چھوڑدینا واجب نہیں کرتی اسی وجہ سے تم دیکھوگے کہ علماء ایك تاویل پر بنائے دلیل رکھتے ہیں اور اس بات سے باز نہیں رکھتا انہیں ان کا یہ علم کہ اس جگہ دوسری وجوہ بھی جن کو ان کے مقصد سے تعلق نہیں،اور کا ہے کو بازر کھے حالانکہ انہیں خبر ہے کہ قرآن اپنی تمام وجوہ پر حجت ہے اور یہ اختلاف وجوہ تو محض تفنن کلام وتلون عبارت ہے،ہمیں خبر دی مولی سراج نے مفتی جمال سے انہوں نے سندسندی سے انھوں نے شیخ صالح سے انھوں نے محمد بن السنۃ اور سلیمان درعی سے انہوں نے شریف محمد بن عبدالله سے انہوں نے سراج بن الالجائی سے انہوں نے بدر کرخی وشمس علقمی سے،ان سب نے جلال الملۃ والدین سیوطی سے روایت کی کہ انہوں نے اتقان میں ابن تیمیہ سے نقل فرمایا کہ تفسیر میں سلف کے درمیان اختلاف کم ہے اور اکثر اختلاف جو سلف سے ثابت ہے اختلاف طرز تعبیر کی طرف لوٹتا ہے متضادباتوں کا اختلاف نہیں اور یہ (تعبیروں کا اختلاف ) دو صنف ہے: ان میں سے ایك صنف یہ کہ ان لوگو ں میں سے کوئی اپنی مراد کی تعبیر ایك عبارت سے کرے جو اس کے ساتھی کی عبارت سے جدا گانہ ہو اور معنی ایك ہو جیسے علماء نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع