30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وان کان بریئا من الافات نقیا من العاھات قبلناہ علی تفاوت عظیم بین قبول وقبول ولیس ھذا من باب مانہینا عنہ من الاجتراء علی التفسیر بالاراء ومعاذ الله ان نجتری علیہ فان علم التفسیر اشد عسیر ویحتاج فیہ الی ما لیس بحاصل ولا میسر کما قد فصل بعضہ العلامۃ السیوطی رحمۃ الله تعالٰی علیہ وکذلك اذا اتانا منہا مافیہ العدول عن ظاہر المدلول وصح ذلك عمن لا یسعنا خلافہ اوکانت ھناك خلۃ لا تنسد الابہ تعین القبول والا فدلالۃ کلام الله تبارك وتعالٰی احق بالتعویل من قال وقیل ھذاالذی قصد فلا تنقص ولا تزد۔
قال الامام السیوطی قال بعضہم فی جواز تفسیر القرآن بمقتضی اللغۃ روایتان عن احمد وقیل الکراھۃ تحمل علی صرف الایۃ عن ظاہر ھا الی معان خارجۃ محتملۃ یدل علیہا القلیل من کلام العرب ولا یوجد غالبا الافی الشعر و نحوہ ویکون المتبادر خلافہا[1]اھ" |
خرابیوں سے بری،علتوں سے پاك ہو ہم اسے قبول کرلیں گے باوجودیکہ اسے قبول کرنے میں اور دوسرے قول کو قبول کرنے میں عظیم تفاوت ہے اور تفسیر بالرائے کے باب سے نہیں ہے جس سے ہمیں روکا گیا،اور الله کی پناہ اس سے کہ ہم اس پر جرات کریں اس لئے کہ علم تفسیر سخت دشوار ہے اور اس میں اس کی حاجت ہے جو ہمیں حاصل نہیں اور نہ اس کا حاصل ہونا آسان ہے جیسا کہ ان علوم ضروریہ میں سے بعض کی تفصیل علامہ سیوطی رحمۃ الله تعالٰی علیہ نے فرمائی ہے اور یونہی جب ہمیں ان میں کوئی قول ایسا پہنچے جس میں ظاہر معنی سے عدول ہو اور وہ اس سے ثابت ہو جس کا خلاف ہمیں نہیں پہنچتا یا کوئی حاجت ہو جو ظاہر سے عدول کے بغیر پوری نہ ہو تو اسے قبول کرنا متعین ہے ورنہ کلام الہی کی دلالت قیل وقال سے اعتماد کی زیادہ حقدار ہے یہی ہمارا مقصود ہے تو اس سے نہ کم کرو نہ زیادہ۔ امام سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا:بعض علماء نے فرمایا کہ مقتضائے لغت کے مطابق قرآن کی تفسیر کے جواز میں امام احمد سے دو روایتں ہیں اور کچھ کا قول یہ ہے کہ کراہت اس پر محمول ہے کہ آیت کو اس کے ظاہری معنی سے پھیر کر ایسے معانی خارجہ محتملہ پر محمول کرے جن پر قلیل کلام عرب دلالت کرتا ہو اور وہ غالبا اور اس کے مثل کلام کے سوا عام بول چال میں نہ پائے جائیں اور ذہن کا تبادر اس کے خلاف ہو اھ۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع