30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بالا ولا نسلم لہ خیرہ وانما المعنی ان غالب الزبر المتد اولۃ لاتسلم من الدخیل وتجمع من الاقوال کل صحیح وعلیل فمجرد حکایتہا لایوجب التسلیم ولایصدالناقد عن نقد السقیم فماھی عندنا اسوء حالامن اکثر کتب الاحادیث اذنعاملہا مرۃ بالترك ومرۃ بالاحتجاج لما نعلم انہا ترد کل مورد فتحمل تارۃ عذبا فراتا وتاتی مرۃ بملح اجاج،وبالجملۃ فالامر یدور علی نظافۃ الحدیث سندا ومتنا فاینما وجدنا الرطب اجتنینا وان کان فی منابت الحنظل وحیثما راینا الحنظل اجتنبنا وان نبت فی مسیل العسل۔
ولقد علمت ان اکثر ھذاالداء العضال انمادخل التفاسیر من باب الاعضال وفی امثال تلك المحال اذا لم یعرف السند یؤل الامر الی نقد المقال فما کان منہا یناضل النصوص ویرد المنصوص اوفیہ ازر اء بالرسل والانبیاء اوغیر ذلك ممالا یحتمل علمنا انہ قول مغسول |
اس کا ہمیں کوئی خیال نہیں اور ہم اس کی اچھی بات بھی نہیں مانتے،مقصد صرف اتنا ہے کہ اکثر کتب متداولہ دخیل سے محفوظ نہیں اور وہ ہر صحیح وسقیم قول کو اکٹھا کرتی ہین تو ان کتابون میں کسی قول کی مجرد حکایت اس کا مان لینا واجب نہیں کرتی اور پر کھنے والوں کو کھوٹے کی پر کھ سے نہیں روکتی تو یہ ان کتابوں کاحال ہمارے نزدیك حدیث کی اکثر کتابوں سے زیادہ برا نہیں اس لئے کہ ہم ان کے ساتھ کبھی کسی قول کو چھوڑنے اور کبھی کسی کو حجت بنانے کا معاملہ کرتے ہیں یوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ ہر گھاٹ پر اترتی ہیں تو کبھی میٹھا پانی اٹھالیتی ہیں او رکبھی سخت کھاری پانی جس سے منہ جل جائے لاتی ہیں،بالجملہ مدار کا ر حدیث کی نظافت (پاکیزگی) سند و متن کے لحاظ سے ہے تو جہاں کہیں ہم میٹھا پھل پائیں گے اسے چن لیں گے اگرچہ وہ کسی خراب جگہ اگاہواور جہاں کہیں کڑو اپھل دیکھیں گے تو اس کو چھوڈدیں گے اگر چہ وہ شہد کی نہر میں اگاہو۔ اور یقینًا تمہیں معلوم ہے کہ اس لاعلاج مرض کا بیشتر حصہ تفاسیر میں جہالت سند کے دروازہ سے گھسا اور ایسے مقامات میں جب سند معروف نہ ہو مآل کاربات کو پرکھنا ہے تو جوبات نصوص سے ٹکراتی اور منصوب کورد کرتی ہو یا اس میں رسل وانبیاء کی تنقیص ہو یا اور کوئی بات جو قابل قبول نہ ہو ہم جان لیں گے کہ یہ قول دھو دینے کے قابل ہے اور اگر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع