30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاختل دین کثیر من الناقصین وصاروا شرا من العوام العامین اذلم یقدرو ا علی مطالعتہا فنجوا عن فتنتہا وقد بذل علماء نا النصح للثقلین فشد دو االنکیر علی کلا الفریقین اعنی التفاسیر والوھیۃ و السیر الداھیۃ فاعلنوا انکار ھا و بینوا عوارھا کالقاضی فی الشفاء والقاری فی الشرح والخفاجی فی النسیم والقسطلانی فی المواھب والزرقانی فی الشرح والشیخ فی المدارج وغیرھم فی غیرھا رحمۃ الله علیہم اجمعین،والحمدلله رب العالمین،ولقد الان القول ابوحیان اذقال کما نقل الامام السیوطی ان المفسرین ذکروا مالا یصح من اسباب نزول و احادیث فی الفضائل و حکایات لاتناسب وتواریخ اسرائیلیۃ ولا ینبغی ذکر ھذا فی علم التفسیر [1]انتہی، واعلم ان ھناك اقواما یعتر یہم نزغۃ فلسفیۃ لما افنوا عمرھم فیہا وظنوھا شیئا شھیا فیولعون بابداء احتمالات |
عامی لوگوں سے بدتر ہوگئےکہ عامیوں کو ان کتابوں کے معالعہ کی قدرت نہ تھی تو وہ ان کے فتنہ سے بچے رہے اور بے شك ہمارے علماء نے دونوں فریقوں کو بھر پور نصیحت کی چنانچہ انہوں نے دونوں فریق کی سخت مذمت کی یعنی واہی تفاسیر اور سیرت کی ناپسندیدہ کتابوں کی تو انہوں نے ان کتا بوں کا ناپسندیدہ ہونا ظاہر کیا اور ان کا عیب کھولا جیسے علامہ قاضی عیاض نے شفا میں اور علامہ خفا جی نے نسیم الریاض میں اور علامہ قسطلانی نے مواہب میں اور علامہ زرقانی نے اس کی شرح میں اور علامہ قاری نے شرح شفا میں اور شیخ (محقق عبد ا لحق محدث دہلوی) نے مدارج میں اور دو سروں نے دوسری تصانیف میں رحمۃ الله علیہم اجمعین والحمد لله رب العلمین،اور یقینا ابوحیان نے بات کو سہل ونرم کیا کہ انہوں نے کہا جیساکہ امام سیوطی نے نقل کیا کہ مفسرین نے ایسے اسباب نزول اور فضائل میں وہ حدیثیں ثابت نہں اور نامناسب حکایات اور تواریخ اسرائیل کو ذکر کیا ہے حالانکہ اس کا ذکر تفسیر میں مناسب نہیں،اور تم جان لو کہ اس جگہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں فلسفی وسوسےآتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے اپنی عمر اس میں فناکی اور اسے موغوب شے گمان کیا تو ان کو دور ازکار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع