30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الصغیر فھی سلسلۃ الکذب وکثیر ا مایخرج منہا الثعلبی والواحدی،ولکن قال ابن عدی فی الکامل للکلبی احادیث صالحۃ وخاصۃ عن ابی صالح وھو معروف بالتفسیر ولیس لاحد نفسیر اطول منہ و لا اشبع،وبعدہ مقاتل بن سلیمان الا ان الکلبی یفضل علیہ لما فی مقاتل من المذاھب الردیئۃ و طریق الضحاك بن مزاحم عن ابن عباس منقطعۃ فان الضحاك لم یلقہ فان انضم الی ذلك روایۃ بشربن عمارۃ عن ابی روق عنہ فضعیفۃ لضعف بشر،وقد اخرج من ھذہ النسخۃ کثیرا ابن جریر وابن ابی حاتم،وان کان من روایۃ جویبر عن الضحاك فاشد ضعفا لان جویبرا شدید الضعف متروك [1] الخ۔قال ورایت عن فضائل الامام الشافعی لابی عبد الله محمد بن احمد بن شاکر القطان انہ اخرج بسندہ من طریق بن عبد الحکم قال سمعت الشافعی یقول لم یثبت عن ابن عباس فی التفسیر الاشبیہ |
تو یہ جھوٹ کا سلسلہ ہے،او رایسا بہت ہوتا ہے کہ ثعالبی اور واحدی اس سلسلہ سےروایت کرتے ہیں۔لیکن ابن عدی نے کامل میں فرمایا کلبی کی احادیث قابل قبول ہیں اور خصوصًا ابو صالح کی روایت سے اور وہ تفسیرکے سبب معروف ہیں اور کسی کی تفسیر ان سے زیادہ طویل اور بھر پور نہیں،اور ان کے بعد مقاتل بن سلیمان ہیں،مگر کلبی کو ان پر اس لئےفضیلت ہے کہ مقاتل کے یہاں ردی خیالات ہیں،اور سند ضحاك بن مزاحم عن ابن عباس منقطع ہے اس لئے کہ ضحاك نے ابن عباس سے ملاقات نہ کی،پھر اگر اس کے ساتھ روایت بشر بن عمارہ عن ابی روق مل جائے تو بوجہ ضعف بشر ضعیف ہے،اس نسخہ سے بہت حدیثیں ابن جریر اور ابن حاتم نے تخریج کیں اور اگر جوبیر کی کوئی روایت ضحاك سے ہو تو سخت ضعیف ہے اس لئے کہ جوبیر شدید الضعف متروك ہے،انہوں نے کہا اور میں نے فضائل امام شافعی مصنفہ ابو عبدالله محمد بن احمد بن شاکر قطان میں دیکھا کہ انہوں نے اپنی سند بطریق ابن عبدالحکم روایت کیا کہ ابن عبد الحکم نے فرمایا میں نے امام شافعی کو فرماتے سنا کہ ابن عباس ( رضی الله تعالٰی عنہ )کی تفسیر میں تقریبا سو حدیثیں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع