30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لم یقلہ ما لم یر الخلط غالبا علیہا کمالا یخفی وھذا فی زمانہ فیکف بما بعدہ وفی مجمع بحار الانوار عن رسالۃ ابن تیمیۃ"وفی التفسیر من ھذہ الموضوعات کثیرہ کما یرویہ الثعلبی والواحدی والزمخشری فی فضل السور والثعلبی فی نفسہ کان ذاخیر ودین لکن کان حاطب لیل ینقل ماوجد فی کتب التفسیر من صحیح وضعیف وموضوع والواحدی صاحبہ کان ابصر منہ بالعربیۃ لکن ھو ابعد عن اتباع السلف،والبغوی تفسیرہ مختصر من الثعلبی لکن صان تفسیرہ عن الموضوع والبدع [1]اھ،وفیہ عن جامع البیان لمعین بن صیفی قد یذکرمحی السنۃ البغوی فی تفسیرہ من المعانی والحایات ما اتفقت کلمۃ المتاخرین علی ضعفہ بل علی وضعہ [2]اھوفیہ عن الامام احمد رحمۃ الله تعالٰی انہ قال فی تفسیر الکلبی |
یقینی ہے کہ امام احمد نے یہ بات نہ کہی جب تك ان کتابوں میں صحیح وسقیم کے خلط کا غلبہ نہ دیکھ لیا جیسا کہ ظاہر ہے اور یہ تو ان کے زمانہ میں تھا تو ان کے بعد کیسی حالت ہوئی ہوگی۔اور مجمع بحار الانوار میں رسالہ ابن تیمییہ سے منقول ہے اور تفسیر میں ان موضوعات سے بہت ہے جیسے وہ حدیثیں جو ثعلبی اور واحدی اور زمخشری سورتوں کی فضیلت میں روایت کرتے ہیں اور ثعلبی اپنی صفات میں صاحب خیر و دیانت تھے،لیکن رات کے لکڑہارے کی طرح تھے کہ تفسیر کی کتابوں میں صحیح،ضعیف،موضوع جو کچھ پاتے نقل کردیتے تھے،اور ان کے ساتھی واحدی کو عربیت میں ان سے زیادہ بصیرت تھی لیکن وہ سلف کی پیرو ی سے بہت دور تھا،اور بغوی کی تفسیر ثعلبی کی تلخیص ہے،لیکن انہون نے اپنی تفسیر کو موضاعات اور بد عتوں سے بچایاہے اور اسی میں جامع البیان مصنفہ معین بن صیفی سے ہے"کبھی محی السنۃ بغوی اپنی تفسیر میں وہ مطالب و حکایات ذکر کرتے ہیں جسے متاخرین نے یك زبان ضعیف بلکہ موضوع کہا ہے،اور اسی میں امام احمد رحمۃ الله تعالٰی علیہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا:تفسیر کلبی میں شروع ہے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع