30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من حکی فی تفسیر قولہ تعالٰی غیر المغضوب علیہم و لاالضالین"نحو عشرۃ اقوال،وتفسیر ھا بالیہود و النصاری ھو الوارد عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ و سلم وجمیع الصحابۃ والتابعین و اتباعہم حتی قال ابن ابی حاتم الااعلم فی ذلك اختلافا بین المفسرین[1] (الی ان قال)فان قلت فای التفاسیر ترشد الیہ وتامر الناظر ان یعول علیہ۔ قلت تفسیر الامام ابی جعفر بن جریی الطبری الذی اجمع العلماء المعتبرون علی ان لہ یؤلف فی التفسیر مثلہ[2]الخ۔وفی المقاصد البر ھان والاتقان غیرھا عن الامام اجل احمد بن حنبل رضی الله تالی عنہ قال ثلثہ لیس لہا اصل المغازی والملاحم والتفسیر [3] اھ قلت وھذا ان لم یکن جاریا علی اطلاقۃ لما(عہ) یشہد بہ الواقع الا انہ |
ایسے شخص کو دیکھا جس نے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کی تفسیر میں تقریبًا دس قول نقل کئے حالانکہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم او رتمام صحابہ وتابعین وتبع تابعین سے یہی منقول ہے کہ اس سے یہود و نصا ری مراد ہیں یہاں تك کہ ابن ابی حاتم نے فرمایا کہ مجھے مفسرین کے درمیان اس میں کسی کا اختلاف معلوم نہیں (یہاں تك انہوں نے کہا) اب اگر تم کہو تو کون سی تفسیر کی طرف آپ رہنمائی فرقے ہیں اور ناظر کو کس پر اعتماد کا حکم دیتے ہیں۔ میں کہوں گا تفسیر امام ابو جعفر بن جریر طبری کی تفسیر معتمد علماء نے جس کے لئے بالاتفاق فرمایا کہ تفسیر میں اس کی جیسی کوئی تالیف نہیں ہوئی الخ۔اور مقاصد،برہان اور اتقان وغیرہ میں امام اجل احمد بن حنبل رضی الله تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:تین کتابوں کی کوئی اصل نہیں،کتب سیرو غزوات وتفسر اھ۔میں کہتا ہوں اگر چہ یہ بات اپنے اطلاق پر جاری نہیں جیسا کہ کہ واقعہ اس کاگواہ ہے مگر یہ بات |
عہ:لعلہ کما۔الازھری غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع