30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولذا قال الامام ابو طالب طبری فی اوائل تفسیرہ فی القول فی آداب المفسر،ویجب ان یکون اعتمادہ علی النقل عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وعن اصحابہہ ومن عاصرھم ویتجنب المحدثات[1] الخ۔ قال ابن تمیۃ ایضا کان النزاع بین الصحابۃ فی تفسیر القرآن قلیلا جد اوھو (و) عــــــہ ان کان بین التابعین اکثر منہ بین الصحابۃ فہو قلیل بالنسبۃ الی مابعد ھم[2]الخ۔وقال السیوطی بعد ما ذکر تفاسیر القدماء"ثم الف فی التفسیر خلایق فاختصر وا الاسانید ونقلوا الا قوال بترًا فدخل من ھنا الدخیل والتبس الصحیح بالعلیل،ثم صارکل من یسنح لہ قول یوردہ،ومن یخطر بیالہ شیئ یعتمد ہ،ثم ینقل ذلك عنہ من یجیئ بعدہ ظانا ان لہ اصلا غیر ملتفت الی تحریرما وردعن السلف الصالح ومن یرجع الیہم فی التفسیر حتی رایت |
اور اسی لئے امام ابو طالب طبری نے اپنی تفسیر کے مقدمہ میں آداب مفسر کے بیان میں فرمایا کہ ضروری ہے کہ مفسر کا اعتماد اس پر ہو جو نبی سلی الله تعالٰی علیہ وسلم اور صحابہ وتابعین سے منقول ہے اور نئی باتوں سے بچے۔نیز ابن تمیہ کا قول ہےصحابہ کے درمیان قرآن کی تفسیر میں بہت کم اختلاف تھا اور تابعین میں اگر چہ اختلاف صحابہ سے زیادہ ہو امگر ان کے بعد والوں کی بہ نسبت تھوڑا تھا،اور سیوطی علیہ الرحمہ نے قدماء کی تفسیروں کا ذکر فرمایا کہ فرمایا:پھر تفسیر میں بہت لوگو ں نے کتابیں تصنیف کیں تو انہوں نے سندوں کو مختصر کردیا اور ناتمام اقوال نقل کئے تو اس وجہ سے دخیل گھسا اور صحیح و غیر صحیح مخلوط ہوگئے پھر ہر شخص جس کے دل میں کوئی بات آئی اس کو ذکر کرنے لگا۔اور جس کے فکر میں جو خطرہ گزرا وہ اس پر اعتماد کرنے لگا۔پھر اس کے بعد جو آتا رہا وہ اس کے یہ خیالات نقل کرتا رہا اور اس گمان میں کہ اس کی کوئی اصل ہے،سلف صالحین اور ان لوگو ں سے جو تفسیر میں مرجع ہیں اور جو وارد ہوا اس کی تحقیق کی طرف توجہ نہ کی یہاں تك کہ میں نے |
عــــــہ:سقطت ھذہ الواؤ من قلم الناسخ و زدناھا فی القوسین بعد ما رأینا الاتقان فوحدناھا فیہ۔الازھری غفرلہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع