30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم ھوالاء کثیرا ما یغلطون فی احتمال اللفظ لذلك المعنی فی اللغۃ کما یغلط فی ذلك الذین قبلہم کما ان لاولین کثیر اما یغلطون فی صحۃ المعنی الذی فسروا بہ القرآن کما یغلط فی ذلك الاخرون وان کا ن نظر الاولین الی المعنی اسبق ونظر الاخرین الی اللفظ اسبق،والا ولون صنفان نارۃ یسلبون لفظ القرآن مادل علیہ واریدبہ وتارۃ یحملونہ علی ما لم یدل علیہ ولم یردبہ،وفی کلا الامرین قد یکون ماقصد وا نفیہ اواثباتہ من المعنی باطلا فیکون خطاھم فی الدلیل والمدلول وقد یکون حقا فیکون خطاھم فیہ فی الدلیل لا فی المدلول (الی ان قال) وفی الجملۃ من عدل عن مذاھب الصحابۃ والتابعین وتفسیرھم الی ما یخالف ذلك کان مخطئا فی ذلك بل مبتدعا لانہم کانوا اعلم بتفسیرہ ومعانیہ کما انہم اعلم بالحق الذی بعث الله بہ رسولہ [1] اھ ملخصًا۔ |
پھر یہ لوگ بسا اوقات لغت کے اعتبار سے لفظ کے اس معنی کو (جو انہوں نے مراد لئے ) محتمل ہونے میں خطا کرتے ہیں جیسا کہ ان کے پہلے والے بھی یہی غلطی کرتے ہیں جس طرح یہ اگلے اسی معنی کی صحت میں غلطی کرتے ہیں جس سے انہوں نے قرآن کی تفسیر کی جیسا کہ دوسرے لوگ یہی خطا کرتے ہیں اگر چہ پہلے والوں کی نظر معنی کی طرف پہلے پہنچتی ہے اور دوسروں کی نظر لفظ کی طرف سبقت کرتی ہے اور پہلی جماعت دوصنف ہے کبھی تو لفظ قرآن سے اس کا مدلول ومراد چھین لیتے ہیں اور کبھی لفظ کو اس پر رکھتے ہیں جو اس کا معنی و مطلب نہیں اور دونوں باتوں میں کبھی وہ معنی جس کی نفی اثبات ان کا مقصود ہوتی ہے باطل ہوتا تو ان کی خطا لفظ و معنی دونوں میں ہوتی ہے اور کبھی حق ہوتا ہے تو ان کی خطا لفظ میں ہوتی ہے نہ کہ معنی میں۔( ابن تمیہ نے یہاں تك کہا) مختصر یہ کہ جو صحابہ وتابعین اور ان کی تفسیر سے پھر کر ان کا خلاف اختیار کرے گا وہ اس میں بر سر خطا ہوگا بلکہ بد مذھب ہوگا اس لئے کہ صحابہ وتابعین کو قرآن کی تفسیر اس کے مطالب کا علم سب سے زیادہ تھا،جس طرح انہیں اس حق کی جس کے ساتھ الله نے اپنے رسول کو بھیجا خبر سب سے زیادہ تھی اھ ملخصًا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع