30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ایات متعددۃ قلائل،فالعلم بالمراد یستنبط بامارات ودلائل،والحکمۃ فیہ ان الله تعالٰی اراد ان یتفکر عبادہ فی کتاب،فلم یامر نبیہ صلی الله تعالٰی علیہ و سلم بالتنصیص علی المراد فی جمیع آیاتہ [1]اھ وقال الامام الزرکشی فی البرھان للناظر فی القرآن لطلب التفسیر ماخذ کثیرۃ امہاتھا اربعۃ الاول النقل عن رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وھذا ھوالطراز الاول لیکن یجب الحذر من الضعیف فیہ والموضوع فانہ کثیر [2]الخ۔ قال الامام السیوطی الذی صح من ذلك قلیل جدا بل اصل الوضوع منہ فی غایۃ القلۃ،وکذلك الماثور عن الصحابۃ الکرام و التابعین لہم باحسان قلائل لہذہ الطوامیر الکبروالا قاویل الذاھبۃ شذر مذر فیہا لاخبر ولا اثر و انما حدثت بعدھم لما کثرت الاراء و تجاذبت الاھواء قام کل لغوی و نحوی وبیانی وکل من لہ |
علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا گیا )چند گنتی کی آیتوں کے ماسوا میں تعذر ہے تو مرد الہی کا علم امارات ودلائل سے مستخرج ہوتا ہے اور حکمت اس میں یہ ہے کہ الله تعالٰی نے چاہا کہ اس کے بندے اس کی کتاب میں غور وفکر کریں لہذا اپنے نبی (صلی الله تعالٰی علیہ وسلم )کو اپنی تمام آیات کی مراد واضح طور پر بتانے کا حکم نہ دیا اھ۔اور اما م زرکشی نے برہان میں فرمایا جو شخص قرآن میں تفسیر کے حصول کیلئے نظر کرتا ہے اس کے لئے بہت سے مراجع ہیں جن کے اصول چار ہیں،اول وہ تفسیر جو نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہو اور یہی پہلا نمایاں طریقہ ہے،لیکن اس میں ضعیف وموضوع سے احتراز واجب ہے اس لئے کہ وہ ( ضعیف وموضوع ) زیادہ ہے الخ۔ امام سیوطی نے فرمایا جو ان کی طرف سے صحیح ہے وہ بہت کم ہے بلکہ اس میں اصل موضوع قلت ہی ہے۔اور اسی طرح وہ تفسیر جو صحابہ کرام اور ان کے تابعین نیکو کار سے منقول ہے وہ ان بڑے طوماروں اور ان اقوال کے مقابل کم ہیں جو مختلف راہوں میں چلے گئے اور ان کے لئے کوئی حدیث یا صحابی و تابعی کا قول نہیں،یہ اقوال تو صحابہ وتابعین کے بعد ظاہر ہوئے۔جب خیالات بسیار ہوئے اور مذاہب میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع