30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فاسدۃ واحتمالات کاسدۃ واعذار باردۃ فو جب علینا حسم مادتھا بایجاب حمل النصوص علی مایعطیہ ظاھرھا الابضرورۃ ابدا وھذا ظاھر جدًّ ا ۔ المقدمۃالثانیۃ : لیس کل مایذکر فی اکثر التفاسیر المتداولۃ واجب القبول وان لم یسا عدہ معقول ویؤیدہ منقول ، والوجہ فی ذلك ان التفسیر المرفوع وھو الذی لامحیص عن قبولہ ابدا نذر یسیر جدا لایبلغ المجموع منہ جزء اوجزئین۔ قال الامام الجوینی علم التفسیر عسیر یسیر اما عسرہ فظاھر من وجوہ اظہر ھا انہ کلام متکلم لم یصل الناس الی مرادہ بالسماع منہ ، ولا امکان للصول الیہ بخلاف الامثال والاشعار ونحوھا فان الانسان یمکن علمہ منہ اذاتکلم بان یسمع منہ او ممن سمع منہ ، واما القرآن فتفسیرہ علی وجہ القطع لایعلم الابان یسمع من الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم و ذلك متعذر الا فی |
تاویلوں اور کھوتے احتمالوں اور نہ چلنے والے بہانوں کے مرتکب ہوں تو ہم پر واجب ہے کہ نصوص شرعیہ کو مقام ضرورت کے سوا ہمیشہ ان کے ظاہری معنی پر رکھنا واجب بتا کر ان تا ویلات کا مادہ کاٹ دیں ، اور یہ بات خوب ظاہر ہے۔ دوسرا مقدمہ : بہت سی متداول تفسیروں میںجو مذکورہوتا ہے وہ سب ایسا نہیں جس کا قبول کرنا ضروری ہو اگر چہ نہ کوئی دلیل عقلی اس کی معین ہو نہ کوئی دلیل شرعی اس کی موید ہو ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تفسیر مرفوع ( جو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمائی ) وہ بہت تھوڑی ہے جس کا مجموعہ دو جز بلکہ ایك جز کو بھی نہیں پہنچتا ۔ امام جو ینی کا قول ہے علم تفسیر مشکل اور کم ہے ، اس کا مشکل ہونا تو کئی وجوہ سے ظاہر ہے ، ان میں روشن تروجہ یہ ہے کہ وہ ایسے متکلم (عزجلالہ) کا کلام ہے جس کی مراد کو لوگ اس سے سن کر نہ پہنچے اور نہ اس کی طرف رسائی کا امکان ہے بخلاف امثال واشعار اور ان جیسی اور باتون کے کہ انسان کو بولنے والے کی مراد معلوم ہوسکتی ہے جب وہ بولے بایں طور کہ وہ اس سے خود سنے یا اس سے سنے جس نے اس سے سنا ہو ۔ رہی قرآن کی قطعی طور پر تفسیر تو وہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے سنے بغیر معلوم نہ ہوگی اور وہ (جو سرکار |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع