30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان صح ماذکر تم لتعطلت الایۃ راسا ولم یوجد لہا مصداق ابدا اذ لیس فی الصحابۃ من لم یلدہ ابواہ او لم ینعم علیہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی دینہ ودنیاہ [1]۔
واما ثانیًا وھو الحل فلان نعم الدنیا لیست کلہا مما تجزی اذا لمجازاۃ ھو المکافات وحاصل نعمۃ الوالدین ان الله سبحنہ وتعالٰی جعلہا سببا لایجادہ وخروجہ من ظلمۃ العدم الی نور التکون ، وبھما جعلہ بشرا حسینا بعد ان کان ماء مہینا وھذا مما لایمکن ان یجازی اذا لیس فی وسع احد ان یحیی ابویہ او یکونہما بعد ان لم یکونا ولذلك قال النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لایجزی ولد والدہ الاان یجدہ مملوکا فیشتر یہ فیعتقہ اخر جہ مسلم وابوداؤد |
تو یہ ہے کہ اگر یہ صحیح ہوجو آپ نے ذکر کیا تو آیت سرے سے معطل ہوجائے گی اور کبھی اس کا کوئی مصداق نہ پایا جائے گا اس لئے کہ صحابہ میں کوئی ایسا نہیں جو اپنے ماں باپ سے پیدا نہ ہو یا اس پر نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے دین ودنیا کا کوئی احسان نہ فرمایا ہو۔ اور جواب دوم اور وہی حل ہے یہ کہ دنیا کے سب احسان ایسے نہیں جن کا بدلہ دیاجاتا ہو اس لئے کہ احسان کابدلہ یہ ہے کہ احسان کے مساوی اس کی جزا دے ، اور والدین کے احسان کا حاصل یہ ہے کہ الله سبحنہ وتعالٰی نے انہیں بچہ کی ایجاد اور عدم کی ظلمت سے نور ہستی میں آنے کا سبب بنایا ہے اور ان کے سبب سے اس کے بعد کہ وہ بے وقعت پانی تھا خوبصورت انسان بنایا ، اور یہ احسان کا بدلہ نہیں ہوسکتا یوں کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنے والدین کو زندہ کردے ، یا عدم کے بعد انہیں موجود کردے ، اسی لئےنبی صلی الله تعالٰی تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے ماں باپ کا بدلہ نہیں چکا سکتا مگر یہ کہ اسے غلام پائے تو اسے خرید کر آزاد کردے ۔" یہ حدیث مسلم وابوداؤد |
[1] صحیح مسلم کتاب العتق باب فضل عتق الوالد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۵،سنن ابی داؤد کتاب السنۃ باب فی بر الوالدین آفتاب علم پریس لاہور ۲/ ۳۴۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع