30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کیف یشاء وھو خزانۃ السر و موضع نفوذ الامر فلا تنال برکۃ الامنہ ولا ینقل خیر الاعنہ کما قال صلی الله تعالٰی عیہ وسلم انما انا قاسم والله المعطی [1]۔ فہو الذی یقسم الخیرات والبر کات وسائر النعماء والآلاء فی لارض والسماء والملك والملکوت والاول والاخروالباطن والظاھر ایقنت بھا جما ھیر الفضلاء العظام ومشاھیر الاولیاء الکرام کما حققتہ فی رسالتی الملقبۃ بسلطنۃ المصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ، وفیہا من المباحث الفائقۃ والمدارك الشائقۃ ماتقربہ الاعین وتلذبہ الاذان وتنشرح بہ الصدور والحمد الله رب العلمین فاذن ماکان لابی بکر اور غیر ہ من مال وبلوغ امال الابعطاء النبی صلی الله علیہ وسلم، فلم تنحصر النعم النبویۃ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ فی النعم الدینیۃ التی لاتجزی فکما ان علیا لم یصلح وموردا للایۃ فکذالك ابوبکر سواء بسواء ۔ اقول : والجواب عن اما اولا فلانہ |
اوروہ راز الہی کا خزانہ اور اس کے حکم کی جائے نفاذ ہیں تو برکت انہیں سے ملتی ہے اور خیر انہیں سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: میں تو بانٹتا ہوں اور الله دیتا ہے۔تو وہی خیرات وبرکات اور ساری نعمتیں آسمان و زمین وملك وملکوت اول آخر باطن وظاہر میں بانٹتے ہیں اس پر فضلاء عظام اور مشہور اولیائے کرام کے جمہور کا یقین ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ سلطنۃ المصطفٰی میں تحقیق کی اس میں کچھ ایسے مباحث فاضلہ اور پسندیدہ دلائل ہیں کہ ان سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور کان لطف اندوز ہوتے ہیں اور سینے کھلتے ہیں، تو جب یہ بات ہے ( کہ ساری برکت ونعمت مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناء کے سبب ہے) تو ابوبکر کو جو کچھ مال ومنال حاصل ہو اوہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی عطا سے ہی حاصل ہو الہذا نبوی احسانات علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ ان دینی احسانات میں منحصر نہیں جن کا بدلہ نہیں دیا جاتا تو جس طرح علی(رضی الله تعالٰی عنہ) آیت کے مصداق نہ ٹھہرے اسی طرح ابوبکر بھی یکسا ں طور پر آیت کے مصداق نہیں ۔
میں کہتا ہوں اس اعتراض کا جواب اول |
[1] صحیح البخاری کتاب العلم باب من یرد الله خیر الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶، صحیح البخاری کتاب الجہاد باب قول الله تعالٰی فان قدمہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۳۹،صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب قول النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتی قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۸۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع