30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
نا الحسین بن عبدالغفار الازدی نا سعید ابن کثیر بن غفیر نا الفضل بن مختار عن ابان عن انس قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لابی بکرما اطیب مالك منہ بلال موذنی وناقتی التی ھاجرت علیہا وزجنتی ابنتك و واسیتنی بنفسك ومالك کانی انظر الیك علی باب الجنۃ تشفع لامتی [1]۔ ھذا وقد ا سقصینا الکلام عی ھذین الفصلین الذین اشار الیہما النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی تلك الاحادیث اعنی مواساۃ الصدیق النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بنفسہ ومالہ فصلین من الباب الثانی من کتابنا الکبیر فی التفضیل علی غایۃ التحقیق و التفصیل فارجع الیہ ان احببت ھذا تقریر ماذکر الفاضل الرازی وقد اور دہ الامام ابن حجر ایضا فی الصواعق |
نے ہم سے حدیث بیان کی حسین بن عبدالغفار ازدی نے ہم سے حدیث بیان کی سعید بن کثیر بن غفیر نے ہم سے حدیث بیان کی فضل بن مختار نے ابان سے انہوں نے روایت کی انس سے انہوں نے فرمایا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا:تمہارا مال کتنا ستھرا ہے اسی سے میرا موذن بلال ہے اور میری اونٹنی ہے جس پر میں نے ہجرت کی اور تم نے اپنی دختر میرے نکاح میں دیا اور اپنی جان ومال سے میری مدد کی گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں جنت کے دروازہ پر کھڑے ہو میری امت کیلئے شفاعت کررہے ہو۔ یہ تو ہوا اور ہم نے ان دونوں فصل پر(یعنی صدیق کا نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی مدد جان ومال سے کرنا)جن کی طرف نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ان احادیث میں اشارہ فرمایا۔ کامل گفتگو اپنی کتاب کبیر،جو باب تفضیل میں ہے کے باب دوم کی دوفصلوں میں نہایت تحقیق و تفصیل کے ساتھ کی ہے اس کا مطالعہ کرلو اگر چاہو،یہ کلام اس کلام کی تائید ہے جو فاضل رازی نے ذکر کیا،اور امام رازی کا یہ کلام امام ابن حجر میں صواعق محرقہ بھی لائے |
[1] الکامل لابن عدی ترجہہ ابان بن ابی عیاش دار الفکر بیروت ۳۷۵/۱،الکام لابن عدی ترجمہ الفضل بن مختار بصری دار الفکر بیروت ۶/ ۲۰۴۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع