30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لعلی بن ابی طالب،واذا ثبت ان المراد بھذہ الایۃ من کان افضل الخلق،وثبت ان ذالك الافضل من الامۃ اما ابوبکر اوعلی،وثبت ان الآیۃ غیر صالحۃ لعلی تعین حملہا علی ابی بکر رضی الله تعالٰی عنہ،وثبت دلالۃ الایۃ ایضا علی ان ابا بکر افضل الامۃ[1] اھ ملخصًا۔
قلت اماما ذکر الفاضل الامام ان علیا رضی الله تعالٰی عنہ کا فی تربیۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وانہ اخذہ من ابیہ فقد ذکرہ محمد بن اسحق وابن ھشام وھذا الفظ ابن اسحق"حدثنی عبدالله بن ابی نجیح عن مجاھد بن جبیر ابی الحجاج قال کان من نعمۃ الله تعالٰی علی علی ابن ابی طالب رضی الله تعالٰی عنہ مما صنع الله تعالٰی لہ وارادہ بہ من الخیر ان قریشا اصابتہم ازمۃ شدید ۃ وکان ابوطالب ذاعیال کثیر فقال |
دیا جائے اس لئے کہ الله تعالٰی نے فرمایا(حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی حکایت کرتے ہوئے)میں تبلیغ پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا۔اور یہاں مطلق احسان کا ذکر نہیں بلکہ بات اس احسان کی ہے جس کا بدلہ دیا جائے تو ہم نے جان لیا کہ آیت کا یہ معنی علی بن ابی طالب کے لئے نہیں بتنا،اور جب یہ ثابت ہے کہ مراد اس آیت کی وہی ہے جو افضل خلق ہے، اور یہ ثابت ہے امت میں سب سے افضل یا ابوبکر ہیں یا علی، اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مفہوم آیت علی کے شایاں نہیں اس کا مصداق ابوبکر رضی الله تعالٰی عنہ کے لئے متعین ہوگیا اور آیت کی دلالت اس پر بھی ثابت ہوگئی کہ ابوبکر ساری امت سے افضل ہیں اھ ملخصا۔ میں کہتاہوں کہ رہی یہ بات جو فاضل امام(فخر الدین رازی علیہ الرحمہ)نے فرمائی کہ علی رضی الله تعالٰی عنہ حضور نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی تربیت میں تھے اور آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد سے لے لیا تھا تو اس کا ذکر محمد ابن اسحق وابن ہشام نے کیا ہے اور محمد بن اسحق کے الفاظ یوں ہیں:مجھ سے عبدالله بن ابی نجیح نے حدیث بیان کی انہوں نے روایت کی مجامد بن جبیر ابی الحجاج سے انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی الله تعالٰی عنہ پر الله تعالٰی کے احسان کے قبیل سے وہ ہے،جو الله تعالٰی نے ان کے ساتھ کیا اور ان کی بھلائی کا ارادہ فرمایا وہ یہ کہ قریش پر سخت تنگی پڑی اور ابو طالب کی اولاد بہت تھی اس لئے رسول |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع