30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی علیہ وسلم تعالٰی علیہ وسلم اما ابو بکر اوعلی، ولایکمن حمل ھذہ الایۃ علی علی بن ابی طالب فتعین حملہا علی ابی بکر،وانما قلنا انہ لایمکن حملہا علٰی علی بن ابی طالب لانہ تعالٰی قال فی صفۃ ھذا الاتقی "وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی"وھذا الوصف لا یصدق علی علی ابن ابی طالب لانہ کان فی تر بیۃ النبی صلی الله علیہ وسلم لانہ اخذہ من ابیہ وکان یطعمہ ویسقیہ و یکسوہ ویر بیہ،وکان الرسول صلی الله علیہ وسلم منعما علیہ نعمۃ یجب جزاء ھا اما ابو بکر فلم یکن للنبی علیہ الصلوۃ والسلام نعمۃ دنیویۃ بل ابوبکر کان ینفق علی الرسول الصلوۃ والسلام بلی کان للرسول علیہ الصلوۃ والسلام علیہ نعمۃ الھدایۃ والارشاد الی الدین،الا ان ھذا لایجزی لقولہ تعالی"مااسئلکم علیہ من اجر"والمذکور ھہنا لیس مطلق النعمۃ بل نعمۃ تجزی،فعلمنا ان ھذہ الایۃ لاتصلح |
اور یہ ممکن نہیں کہ یہ آیت علی پر محمول کی جائے تو ابوبکر کے لئے اس کا مصداق ہونا متعین ہوگیا،اور ہم نے یہ اسی لئے کہا کہ آیت کو علی پر محمول کرنا ممکن نہیں کہ الله تعالٰی نے اس سب سے بڑے پرہیز گار کی صفت میں فرمایا ہے ومالاحد عندہ من نعمۃ تجزی یعنی اس پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے،اور یہ وصف علی بن ابی طالب پر صادق نہیں آتا اس لئے کہ وہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی تربیت میں تھے بایں سبب کہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے علی کو ان کے باپ سے لے لیا تھا اورحضور انہیں کھلاتے بلاتے، پہناتے اور پالتے تھے اور حضور(رسول)صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی کے ایسے محسن ہیں کہ ان کے احسان کابدلہ واجب ہوا۔رہے ابوبکر،تو حضور(نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)کا ان پر دنیوی احسان نہیں بلکہ ابوبکر رسول علیہ الصلوۃ والسلام کا خرچ اٹھاتے تھے،ہاں کیوں نہیں ابوبکر پر رسول علیہ الصلوۃ و السلام کا دین کی طرف ہدایت و ارشاد کا احسان ہے۔مگر یہ ایسا نہیں جس کا بدلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع