30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ھذا وقد قال البغوی فی الاتقی یعنی ابابکر الصدیق فی قول الجمیع[1] وقال الرازی فی مفاتیح الغیب"اجمع المفسرون منا علی ان المراد منہ ابوبکر رضی الله تعالٰی عنہ"[2]۔ ونقل ابن حجر فی الصواعق عن العلامۃ ابن الجوزی اجمعوا انہا نزلت فی ابی بکر [3]۔حتی بلغنی ان الطبرسی مع رفضہ لم یسغ لہ انکارہ فی تفسیر ہ مجمع البیان،والفضل ماشہدت بہ الاعدء،الحمد لله رب العلمین۔
ثم ان الا مام الفاضل فخر الدین الرازی حاول فی تفسیرہ اثباث ان الایۃ لا تصلح الا للصدیق بطریق النظر والاستد لال علی ماھو دابہ رحمہ الله تعالٰی فقال"اعلم ان الشیعۃ باسرھم ینکرون ھذہ الروایۃ ویقولون انہا نزلت فی حق علی ابن ابی طالب علیہ السلام والدلیل علیہ قولہ تعالی"ویؤتون الزکوۃ وھم |
اسے یاد رکھو اور امام بغوی نے الاتقی کی تفسیر میں کہا اس لفظ سے خدا کی مراد سب مفسرین کے قول کے بموجب ابوبکر صدیق ہیں۔ امام رازی نے مفاتیح الغیب میں فرمایا ہم سنیوں کے مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اتقی سے مراد ابوبکر رضی الله تعالٰی عنہ ہیں" صواعق میں ابن حضر نے علامہ ابن الجوزی سے نقل کیا علماء اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت ابوبکر کے حق میں نازل ہوئی۔ یہاں تك کہ مجھے خبر پہنچی کہ طبرسی کو باوجود رفض اپنی تفسیر مجمع البیان میں اس کا انکار نہ بن پڑا اور فضل وہی ہے جس کی شہادت دشمن دیں،والحمد لله رب العلمین۔ پھر امام فخر الدین رازی رحمہ الله تعالٰی نے اپنی عادت کے مطابق اپنی تفسیرمیں عقلی استدلال و نظر کی راہ سے یہ بات ثابت کرنےکی کوشش فرمائی کہ آیت کامفہوم صدیق اکبر کے سوا کسی کے لئے نہیں بنتا،تو انہوں نے فرمایا تمہیں معلوم ہوکہ تمام شیعہ اس روایت کے منکر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ آیت علی بن ابی طالب کے حق میں اتری ہے اور اس کی دلیل الله کا فرمان ہے و یؤتون الزکوۃ وھم راکعون یعنی وہ رکوع کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع