30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
" وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾ "[1]۔
وذکر العلامۃ ابو السعود فی تفسیرہ قدروی عطاء و الضحاك عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما وذکر قصۃ شراء بلال واعتقاقہ قال فقال المشرکون ما اعتقہ ابوبکر الالید کانت عندہ فنزلت [2] اھ ملخصا
و فی الازالۃ عن عروۃ ان ابابکر الصدیق اعتق سبعۃ کلہم یعذب فی الله بلا لا وعامر بن فہیرۃ النھدیۃ وابنتہا وزنیرۃ وام عیسی وامۃ بنی المؤمل،وفیہ نزلت " وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ۱۷﴾ "[3] الی اآخر السورۃ۔
وعن عامر بن عبدالله بن الزبیر عن ابیہ قال قال ابو قحافۃ لابی بکر اراك تعتق رقابا ضعافا فلوانك اذا فعلت مافعلت اعتقت رجالا جلدًا یمنعونك |
اتاری" وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ "الخ یعنی اور اس پر کسی کا کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ اور علامہ ابوالسعود نے اپنی تفسیر میں ذکر کیا کہ عطا اور ضحاك نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا(اس روایت میں خریداری بلال اور ان کے آزاد ہونے کا قصہ ذکر کیا پھر کہا)تو مشرکین بولے:ابوبکر نے بلال کو ان کے کسی احسان ہی کی وجہ سے آزاد کیا ہے تو یہ آیت(مندرجہ بالا) اتری اھ ملخصًا۔ اور ازالہ میں عروہ سے ہے کہ ابوبکر صدیق(رضی الله تعالٰی عنہ)نے ساتھ کو آزاد کیا،ان سب پر الله کی راہ میں ظلم توڑا جاتا تھا وہ بلال و عامر بن فہیرہ اور نہدیہ اور اس کی بیٹی اور زنیرہ اور ام عیسی اوربنی مؤمل کی کنیز ہیں اور انہیں کیلئے آیت اتری " وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ۱۷﴾ "اور اس سے(دوزخ)بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیز گار ہے۔تا آخر سورت۔ اور عامر بن عبدالله بن الزبیر سے روایت ہے وہ اپنی باپ سے روای ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابوقحانہ نے ابو بکر(رضی الله تعالٰی عنہ)سے فرمایا:میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ کمزور غلامون کو آزاد کرتے ہوتو کاش ! تم تندرست و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع