30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
امر رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بلا لا حتی علا علی ظہرالکعبۃ واذن،فقال عتاب بن اسید بن ابی العیص:الحمد لله الذی قبض ابی حتی لم یر ھذا الیوم۔وقال الحارث بن ھشام اما وجد محمد غیر ھذا الغراب الاسود موذنا۔وقال سہل بن عمرو ان یرد الله شیئا یغیرہ۔وقال ابوسفیان انی لا اقول شیئا اخاف ان یخبر بہ رب السماء فاتی جبریل فاخبر رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بما قالو فدعا ھم وسالھم عما قالوا فاقروا فانزل الله تعالٰی ھذہ الابۃ وزجرھم عن التفاخر بالانساب والتکاثر بالاموال والازراء بالفقراء [1]قال العلامۃ النسفی فی المدارك تبعا للزمخشری فی الکشاف عن یزید بن شجرۃ مررسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فی سوق المدینۃ فرای غلاما اسود یقول من اشترانی فعلی شرط ان لا یمنعی |
صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی الله عنہ کو حکم دیا(کہ اذان دیں)تو وہ کعبہ کی چھت پر چڑھے اور انہوں نے اذان کہی،تو عتاب بن اسید بن ابی العیص نے کہا:الله کے لئے حمد ہے جس نے میرے باپ کو اٹھالیا ور انہوں نے یہ دن نہ دیکھا۔اور حارث بن ہشام نے کہا:کیامحمد(صلی الله علیہ وسلم) کو اس کا لے کوے کے سوا کوئی اذان دینے والا نہ ملا۔اور سہل بن عمرو نے کہا:الله کو اگر کوئی چیز ناپسند ہوگی وہ اسے بدل دے گا۔اور ابوسفیان بولے:میں کچھ نہیں کہتا مجھے خوف ہے کہ آسمان کا رب انہیں خبر دار کر دے گا۔تو جبریل(علی بنینا وعلیہ السلام)نازل ہوئے پھر رسول الله صلی ا لله تعالٰی علیہ وسلم کو ان لوگوں کی باتیں بتادیں تو حضور(علیہ الصلوہ والسلام)نے ان سے ان کے اقوال کی بابت پوچھا تو انہوں نے اقرار کیا،تو الله نے یہ آیت اتاری اور انہیں نسب پر فخر اور اموال پر گھمنڈ اور فقراء کی تحقیر سے منع فرمایا۔ علامہ نسفی نے زمخشری کی اتباع کرتے ہوئے مدارك میں فرمایا یزید بن شجرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے بازار میں گزرے تو ایك سیاہ فام غلام دیکھا جو کہتا تھا مجھے جو خرید ے تو اس شرط پر خریدے کہ مجھے رسول الله صلی ا لله تعالٰی علیہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع