30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کسیکہ امیر المومنین علی را خلیفہ ندانداو از خوارج ست وکسیکہ اور ابر ا میر المومنین ابو بکر وعمر تفضیل کند او از روافض ست[1] |
جوشخص امیر المومنین علی مرتضی رضی الله تعالٰی عنہ کو خلیفہ نہ مانے وہ خارجیوں سے ہے اور جو آپ کو ابوبکر وعمر رضی الله تعالٰی عنہما سے افضل جانے وہ رافضیوں میں سے ہے۔(ت) |
پھر فرمایا:
|
ازینجا باید دانست کہ درجہاں نہ ہمچو مصطفی صلی الله علیہ وسلم پرے پیداشد ونہ ہمچو ابوبکر مریدے ہوید ا گشت،اے عزیز ! اگرچہ کمالیت فضائل شخیین بر ختنین مفرط وفائق اعتقاد با ید کرد امانہ بر وجہی کہ درکمالیت فضائل ختنین قصورے و نقصانے بخاطر تو رسد بلکہ فضائل ایشاں وفضائل جملہ اصحاب از عقول بشر یہ افکار انسانیہ بسے بالا تر ست [2] |
یہاں سے جاننا چاہے کہ مصطفٰی صلی الله علیہ وسلم جیسا پیراور ابوبکر صدیق رضی الله تعالٰی عنہ جیسا مرید کا ئنات میں کوئی پیدا نہیں ہوا۔اے عزیز! اگر شیخین کی فضیلت کا ملہ ختنین پر بہت زیادہ سمجھنی چاہے مگر اس طور پر نہیں کہ تیرے دل میں ختنین کی فضیلت کا ملہ کے قاصر وناقص ہونے کا خیال گزرے،بلکہ ان کے اور تمام صحابہ کے فضائل عقول بشریہ اور افکار انسانیہ سے بہت بلند ہیں۔ |
پھر فرمایا:
|
پس چوں اجماع صحابہ کہ انبیاء صفت اند بر تفضیل شیخین واقع شد و مرتضی نیز دریں اجماع متفق وشریك بود مفضلہ در اعتقاد خود غلط کردہ است اسے خان ومان مافدائے نام مرتضے باد کدام بدبخت ازل کہ محبت مرتضے در د لش نباشد وکدام راندہ درگاہ مولے کہ اہانت اور وا دارد،مفضلہ گمان |
جب انبیاء جیسی صفات کے حامل صحابہ کرام کا اجماع واقع ہو گیا کہ شیخین کریمین افضل ہیں۔اور حضرت علی مرتضی رضی الله تعالٰی عنہ بھی اس اجماع میں شامل اور متفق تھے۔ تو فرقہ تفضیلہ نے خود اپنے اعتقاد میں غلطی کھائی ہے۔میرا گھر بار حضرت علی مرتضی رضی الله تعالٰی عنہ کے نام پر فدا اور میرا جان ودل آپ کے قدموں پر قربان ہوں کون ازلی بدبخت ہے جس کے دل میں محبت مرتضے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع