30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مدینہ منورہ پہلو بر ستر خواب گزا شتم در واقعہ می بینم کہ من وسید صبغۃ الله بروجی معا در مجلس اقدس رسالت پناہ صلی الله علیہ تعالٰی علیہ وسلم باریاب شدیم جمعے از صحابہ کرام واولیائے امت حاضر اند درینہا شخصے ست کہ حضرت باولت بہ تبسم شریں کردہ حرفہا میزند والتفات تمام دار ند چوں مجلس آخر شد از سید صبغۃ الله استفسار کر دم کہ ایں سید شخص کیست کہ حضرت،با اوالتفاف بایں مرتبہ دار ند گفت میر عبد الواحد بلگرام،وباعث مزید احترام اواینست کہ سنابل تصنیف او درجناب رسالت پناہ صلی الله علیہ وسلم مقبول افتادہ انتہی کلامہ انتہی مقالہ الشریف بلفظہ المنیف قدس الله تعالٰی سرہ اللطیف [1]۔ |
بیان کئے اور فرمایا کہ ایك رات میں مدینہ منورہ میں اپنے بستر پر لیٹا تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں اور سید صبغت الله بروجی اکٹھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مجلس اقدس میں حاضر ہیں،صحابہ کرام اور اولیاء امت کی ایك جماعت بھی حاضر ہے،آپ کی مجلس اقدس میں ایك شخص موجود ہے اور آپ اس کی طرف نظر کرم کرتے ہوئے مسکرارہے ہیں اور اس سے باتیں کررہے ہیں اور اس کی طرف بھر پور توجہ فرما رہے۔جب مجلس ختم ہوئی تو میں نے سید صبغت الله سے پوچھا یہ شخص کون ہے جس کی طرف حضور علیہ الصلوۃ و السلام اس قدر توجہ فرماتے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ میر عبدالواحد بلگرامی ہیں اور ان کے اس قدر احترام کی وجہ یہ ہے کہ کتاب سنابل نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہوئی ہے۔ان کا کلام ختم ہوا۔مقالہ شریف ان ہی کے بلند پایہ لفظوں میں ختم ہوا۔الله تعالٰی ان کے سر لطیف کو مقدس بنائے۔(ت) |
حضرت میر قدس سرہ المنیر نے اس کتاب مقبول ومبارك میں مسئلہ تفضیل بکمال تفصیل وتاکید جمیل وتہدید جلیل ارشاد فرمایا لفظ مبارك سے چند حروف کی نقل سے شرف حاصل کروں اولیائے کرام محدثین وفقہاء جملہ اہل حق کےا جماعی عقائد میں بیان فرماتے ہیں:
|
وواجماع دارند کہ افضل از جملہ بشر بعد انبیاء |
اور اس پر اجماع ہے کہ انبیاء کے بعد تمام |
[1] کاشف الاستار ص۴۱ ب اصح التواریخ از مولانا محمد میاں قادری مار ہروی خانقاہ بر کاتیہ مارھرہ ۱۳۴۷ء ۱ /۱۶۸،ماثر الکلام از میر غلام علی آزاد بلگرامی لاہور ۱۹۷۱ءص ۲۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع