30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بقیۃ السلف،حجۃ الخلف سیدنا ومولانا میر عبدالواحد حسینی زیدی واسطی بلگرامی قدس الله تعالٰی سرہ السامی نے کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف فرمائی کہ بارگاہ عالم پناہ حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں موقع قبول عظیم پر واقع ہوئی، حضرت مستفتی دامت برکاتہم کے جد امجد جدا ور اس فقیر کے آقائے نعمت ومولائے اوحد حضرت اسد الواصلین محبوب العاشقین سیدنا ومولونا حضرت سید شاہ حمزہ حسینی زیدی مار ہروی قد س سرہ القوی کتاب مستطاب کاشف الاستار شریف کی ابتدا میں فرماتے ہیں:
|
باید دانست کہ درخاندان ماحضڑت سند المحققین سید عبدالوحد بلگرامی بسیار صاحب کمال بر خاستہ اند قطب فلك ہدایت ومرکز دائرہ ولایت بود در علم صوری ومعنوی فائق واز مشارب اہل تحقیق ذائق صاحب تصنیف وتالیف ست ونسب ایں فقیر بچہار واسطہ بذات مبارکش می پیوند[1] |
جاننا چاہئےکہ ہمارے خاندان میں حضرت سند المحققین میر سید عبدالواحد بلگرامی بہت صاحب کمال شخصیت ہیں۔وہ فلك ہدایت کے قطب،دائرہ ولایت کے مرکز،ظاہری وباطنی علم میں فوقیت رکھنے والے،اصل تحقیق کے گھاٹوں کو چکھنے والے صاحب تصنیف وتالیف ہیں۔اس فقیر کا نسب چار واسطوں سے آپ تك پہنچتا ہے۔(ت) |
پھر بعد چند اجزاءکے فرماتے ہیں:
|
شہر تصانیف اوکتاب سنابل ست در سلوك وعقائد حاجی الحرمین سید غلام علی آزاد سلمہ الله درماثر الکلام فی نویسد و قتے در شہر رمضان المبارك سنۃ خمس وثلثین ومائۃ و الف مولف اوراق در دار الخلافہ شاہجہاں آباد خدمت شاہ کلیم چشتی قدس سرہ راہ زیارت کرد ذکر میر عبدالواحد قدس سرہ درمیان آمد شیخ مناقب وماثر میر تادیر بیان کرد فرمود شبے در |
سلوك وعقائد میں آپ کی مشہور نصنیف کتاب سنابل ہے۔ حاجی حرمین سید غلام علی آزاد،الله انہیں سلامت رکھے، ماثر الکلام میں لکھتے ہیں جس وقت ۱۱۳۵ھ میں رمضان المبارك میں مؤلف اوراق نے دار الخلافہ شاہجہاں آباد میں شاہ کلیم الله چشتی قدس سرہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر آپ کی زیارت کی،میر عبدالواحد کا ذکر درمیان کلام میں آگیا۔ حضرت شیخ نے کافی دیر تك میر صاحب کے فضائل ومناقب |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع