30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بن المنصور الرمانی ثنا داؤد بن معا ذ ثنا ابو سلمۃ العتکی عبدالله بن عبدالرحمن عن سعید بن ابی عروبۃ عن منصور بن المعتمر عن ابراھیم عن علقمۃ قال بلغ علیا ان اقواما یفضلونہ علی ابی بکر و عمر فصعد المنبر فحمد الله واثنی علیہ ثم قال یا ایھا الناس انہ بلغنی ان قسوما یفضلونی علی ابی بکر وعمر ولوکنت نقد مت فیہ لعاقبت فیہ فمن سمعتہ بعد ھذالیوم یقول ھذا فہو مفتر علیہ حد المفتری ثم قال ان خیر ھذا الامۃ بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر، ثم الله اعلم بالخیر بعد،قال وفی المجلس الحسن بن علی فقال والله لوسمی الثالث لسمی عثمان [1]۔ |
کی سلیمان بن احمد نے،ہم کو حدیث بیان کی حسن بن منصور رمانی نے،کو کو حدیث بیان کی داؤد معا ذ بن،ہم کو ابو سلمہ عتکی عبدالله بن عبد الرحمن نے،انہوں نے سعید بن ابو عروبہ سے،انہوں نے منصور بن معتمر سے،انہوں نے ابراہیم سے اور انہون نے حضرت علقمہ سے روایت کی) حضرت علقمہ رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں امیر المومنین کرم الله تعالٰی وجہہ کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ انہیں حضرات صدیق وفاروق رضی الله تعالٰی عنہما سے افضل بتاتے ہیں،یہ سن کر منبر پر جلوہ فرماہوئے حمد وثناءے الہی بجالائے،پھر فرمایا:اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر وعمر سے افضل کہتے ہیں اس بارہ میں اگر مین نے پہلے سے حکم سنا دیا ہو تا تو بے شك سزا دیتا آج سے جسے ایسا کہتے سنوں گا وہ مفتری ہے اس پر مفتری کی حد یعنی اسی کو ڑے لازم ہیں۔پھر فرمایا:بے شك نبی صلی الله علیہ وسلم کے بعد افضل امت ابو بکر ہیں پھر عمر،پھر خدا خوب جانتا ہے کہ ان کے بعد کون سب سے بہتر ہے۔علقمہ فرماتے ہیں مجلس میں سیدنا امام حسن مجتبی رضی الله تعالٰی عنہ بھی تشریف فرماتھے انہوں نے فرمایا خدا کی قسم اگر تیسرے کانام لیتے تو عثمان کانام لیتے رضی الله تعالٰی عنہم اجمعین(ت) |
حدیث چہارم۴:امام دار قطنی سنن میں اور ابو عمر بن عبد البر استیعاب میں حکم بن حجل سے
[1] ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء بحوالہ ابی القاسم فی کتاب السنۃ مسند علی بن ابی طالب سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۶۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع