30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولا کاشفین عن تعلقہ وھو مختارالشیخ ابن الھمام وتبعہ المصنف ورأیت فی بعض الکتب وجدت مشائخنا الذین لاقیتھم قائلین مثل قول الاشعریۃ [1]اھ بتلخیص۔ |
وہ تعلق حکم کے موجب یا مظہر نہیں۔یہی شیخ ابن الہمام کا مختار ہے اورمصنف نے اسی کا اتباع کیاہے۔میں نے بعض کتابوں میں پڑھا کہ میں نے اپنے ان مشائخ کو جن سے میں نے ملاقات کی ہے اشعریہ کے قول کاقائل پایااھ بتلخیص۔(ت) |
ان دونوں قولوں پر قبل شرح حکم اصلا نہیں،تو عصیان نہیں،کہ عصیان مخالفت حکم کا نام ہے۔
|
ولذا قال الامام ابن الھمام کیف تحقق طاعۃ او معصیۃ قبل ورودامرونھی۔ |
اسی لئے ابن الہمام نے فرمایا کہ امرونہی وارد ہونے سے پہلے کسی طاعت یا معصیت کا تحقق کیسے!(ت) |
اورجب عصیان نہیں کفر بالاولٰی نہیں کہ وہ اخبث معاصی ہے اورانتفائے عام مستلزم انتفائے خاص۔یوں بھی خود ابوطالب پرتا زمان فترت حکم کفر نہ تھا،جب کفرکیا تبعیت کا اصلًامحل نہ تھا۔
جماہیر ائمہ ماتریدیہ رضی الله تعالٰی عنہم اگرچہ عقل کو معرف حکم مانتے ہیں،مگر نہ مطلقًاکہ یہ توسفاہت سفہائے معتزلہ و روافض وکرامیہ وبراہمہ خذلھم الله تعالٰی(الله تعالٰی ان کو رسواکرے۔ت)ہے۔بلکہ امثال توحیدوشکر وترك کفران وکفر وغیرہا امورعقلیہ غیر محتاج سمع میں۔اس مذہب پر پھر وہی سوال ہوگا کہ حضرت فاطمہ بنت اسد کا زمان فترت میں ارتکاب شرك واجتناب توحیدثابت کرو۔اگر نہ ثابت کرسکو توکیا مولی المسلمین ولی رب العٰلمین حبیب سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر ایسے شنیع لفظ کا اطلاق بے دلیل کردیا جائے گا؟
ثالثًا اس سب سے تنزل کیجئے اورتاظہور بعثت ان دونوں زن وشوکا کفر مان ہی لیجئے تو اب ایك ذرا نظر انصاف درکار کہ امردوم کا پتا نہ لگارہا نہ رہے۔
ناسمجھ بچے کو بہ تبعیت والدین یا دارکافر کہنے کے ہرگز ہرگز یہ معنی نہیں کہ وہ حقیقۃًکافر ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع