30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسلم جعل اتفاقھما ناقلالہ عن الفطرۃ فاذا لم یتفقا بقی علی اصل الفطرۃ،وایضًاحیث نظروا للجزئیۃ فی تلك السائل احتیاطافلینظر الیہا ھنا احتیاطا ایضا، فان الاحتیاط بالدین اولٰی ولان الکفر اقبح القبیح فلاینبغی الحکم بہ علٰی شخص بدون امر صریح [1]اھ ملخصًا۔ |
تعالٰی علیہ وسلم نے ماں اورباپ دونوں کے اتفاق کو دین فطرت سے منتقل کرنے والا ٹھہرایا۔تو اگر دونوں متفق نہ ہوں تو بچہ اصل فطرت پر رہے گا۔دوسری وجہ یہ ہے کہ علماء نے جب ان مسائل میں احتیاطًاجز ئیت کا لحاظ کیا تو یہاں بھی احتیاطًالحاظِ جزئیت ہونا چاہئے کیونکہ دین کے معاملہ میں احتیاط ہی اولٰی ہے۔اوراس لئے بھی کہ کفر سب سے بدتر قبیح ہے تو کسی شخص پر کسی امر صریح کے بغیر حکم کفر لگانا مناسب نہیں۔اھ ملخصًا(ت) |
سبحان الله !اس جرأت کی کوئی حد ہے کہ مدعاعلیہ اسدالله الغالب اوردلیل وگواہ مفقودوغائب،انا لله وانا الیہ راجعون (ہم الله ہی کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ت)
ثانیًا:باجماع ائمہ اشاعرہ قدست اسرارھم،حسن وقبح مطلقًاشرعی ہیں۔تو قبل شرع اصلًاکسی شیئ کی نسبت ایجاب یا تحریم کچھ نہیں۔بعض ائمہ ماتریدیہ تمت انوارھہم بھی بآنکہ قائل عقلیت ہیں مگر تعرف عقل قبل سمع کو مستلزم حکم وشغل ذمہ مکلف عــــــہ نہیں جانتے۔یہی مذہب امام ابن الہمام نے اختیار فرمایا اور انہیں کی تبعیت فاضل محب الله بہاری نے کی۔مسلم الثبوت وفواتح الرحموت میں ہے:
|
(عندنا)وعند المعتزلۃ عقلی لٰکن عند نا من متاخری الماتریدیہ لایستلزم ھذا الحسن والقبح حکمًا |
اشیاء کاحسن وقبح ہمارے نزدیك اورمعتزلہ کے نزدیك عقلی ہے لیکن ہم متاخرین ماتریدیہ کے نزدیك یہ حسن وقبح بندے کے بارے میں الله |
عــــــہ:یعنی بعض ائمہ ماتریدیہ مانتے ہیں کہ کچھ اشیاء کے حسن وقبح کا ادراك عقل سے ہوتا ہے مگر وہ اس کے قائل نہیں کہ شریعت آنے سے پہلے ہی محض عقل کے ادراك پر مکلف بندہ ذمہ دار ہوجائے اوراس پر کسی کام کاکرنا یا نہ کرنا لازم ہوجائے۱۲محمد احمد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع